سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 45
۴۵ غرض صرف یہ ہے کہ قادیان کے باشندوں کو جنہوں نے استقلال کے ساتھ مشرقی پنجاب میں رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے اس جرم میں ہلاک کر دیا جائے کہ وہ کیوں مشرقی پنجاب میں سے نکلتے نہیں۔منہ سے کہا جاتا ہے ہم کسی کو نکالتے نہیں لیکن عمل سے اس بات کی تردید کی جاتی ہے۔یہ بات اخلاقی لحاظ سے نہایت ہی گندی اور نہایت ناپسندیدہ ہے۔جماعت احمدیہ نے مسٹر گاندھی کے پاس بھی بار بار اپیل کی ہے ، تاریں بھی دی ہیں اور بعض خطوط بھی لکھے ہیں لیکن مسٹر گاندھی کو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں۔مسٹر نہرو کو بھی اس طرف توجہ دلائی گئی ہے مگر وہ بھی بڑے کاموں میں مشغول ہیں۔چند ہزار بے گناہ مسلمانوں کا مارا جانا ایسا معاملہ نہیں ہے جس کی طرف یہ بڑے لوگ توجہ کر سکیں۔ایک چھوٹی سی مذہبی جماعت کے مقدس مقامات کی ہتک ان بڑے آدمیوں کے لئے کوئی قابل اعتناء بات نہیں۔اگر اس کا سوداں حصہ بھی انگریز قادیان میں بس رہے ہوتے اور ان کی جان کو خطرہ ہو تا تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو حقوق انسانیت کا جذبہ فوراً بے تاب کر دیتا۔مسٹر گاندھی بیسیوں تقریریں انگریزوں کے خلاف کاروائی کرنے والوں کے متعلق پبلک کے سامنے کر دیتے۔مسٹر نہرو کی آفیشل مشین فورا متحرک ہو جاتی مگر جماعتوں کا خیال رکھنا خد اتعالیٰ کے سپرد ہے۔وہی غریبوں کا والی وارث ہوتا ہے یا وہ انہیں ایسی تکالیف سے بچاتا ہے اور یا پھر وہ ایسے مظلوموں کا انتقام لیتا ہے۔ہم تمام شریف دنیا کے سامنے اپیل کرتے ہیں کہ اس ظلم کے دور کرنے کی طرف توجہ کریں۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ پاکستان گورنمنٹ اس ظلم کو دور کرنے میں کیوں بے بس ہے۔بجائے اس کے کہ ان باتوں کو۔سن کر پاکستان گورنمنٹ کے متعلقہ حکام کوئی موثر قدم اٹھاتے انہوں نے بھی یہ حکم دے دیا ہے کہ چونکہ قادیان کی سٹرک کو مشرقی پنجاب نے ناقابل سفر قرار دیا ہے اس لئے آئندہ ہماری طرف سے بھی کوئی کانوائے وہاں نہیں جائے گی۔حالانکہ انہیں چاہئے یہ تھا کہ جب مغربی پنجاب کے علاقوں میں بھی بارش ہوئی ہے تو وہ ان علاقوں کو بھی نا قابل سفر قرار دے دیتے اور مشرقی پنجاب جانے والے قافلوں کو روک لیتے۔قادیان کے مصائب کو کم کرنے کا ایک ذریعہ یہ تھا کہ قادیان کو ریفیوجی کیمپ قرار دے دیا جاتا لیکن دونوں گورنمنٹیں یہ فیصلہ کر چکی ہیں کہ ریفیوجی کیمپ وہی گورنمنٹ مقرر