سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 523 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 523

۵۲۳ فقرہ دکھا دیں کہ میں نے کہا ہو میں ایسا کروں گا ہاں یہ میں نے سینکڑوں دفعہ کہا ہے کہ خدا تعالیٰ میری نصرت کرے گا اور یہ میں اب بھی کہتا ہوں یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغام ہے جس کا پہنچانا میرا فرض ہے اس کے سوا کوئی ثابت کر دے کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے آدمی نے بھی مجھے دھمکی دی ہو اور میں نے اسے کہا ہو کہ میں تمہیں سیدھا کر دوں گا۔میرا ہزاروں لاکھوں انسانوں سے واسطہ ہے کوئی بتادے اگر میں نے کبھی ایسا کہا ہو میں نے کبھی شدید غصہ کی حالت میں بھی ایسی بات نہیں کی میری تحریرات کا سلسلہ بہت وسیع ہے کسی جگہ کوئی یہ لکھا ہوا دکھا دے کہ میں یوں کروں گا میں دنیا کو دکھا دوں گا۔۔۔۔۔۔(الفضل ۱۷ اگست ۱۹۳۷ء) اپنے خداداد منصب کے تقاضوں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے وعدوں اور تسلیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔"خدا کا بنایا ہو ا خلیفہ کبھی کسی سے نہیں ڈرتا کیا میں اس بات سے ڈر جاؤں گا کہ لوگ مرتد ہو جائیں گے۔جس کے لئے ارتداد مقدر ہے وہ کل کی بجائے بے شک آج ہی مرتد ہو جائے مجھے کیا فکر ہے میں جب جانتا ہوں کہ میں خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں خواہ ایک آدمی بھی میرے ساتھ نہ ہو تو بھی کیا ڈر ہے۔جب خدا تعالیٰ مجھے تسلیاں دیتا ہے تو میں انسانوں سے کیوں ڈروں ادھر یہ لوگ مجھے ڈراتے ہیں اور ادھر خدا تعالیٰ مجھے تسلی دیتا ہے ان چند روز میں اتنی کثرت سے مجھے الہام اور رویا ہوئے ہیں کہ گزشتہ دو سال میں اتنے نہ ہوئے ہوں گے ابھی چند روز ہوئے کہ مجھے الہام ہوا جو اپنے اندر دعا کا رنگ رکھتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اے خدا میں چاروں طرف سے مشکلات میں گھرا ہوا ہوں۔تو میری مدد فرما۔" اور پھر اس کے تین چار روز بعد الہام ہوا جو گویا اس کا جواب ہے میں تیری مشکلات کو دور کروں گا اور تھوڑے ہی دنوں میں تیرے دشمنوں کو تباہ کر دوں گا۔۔۔۔جب خدا تعالیٰ مجھے تسلیاں دیتا ہے تو میں بندوں سے کیوں ڈروں۔۔۔۔خدا تعالیٰ نے بار بار مجھے انسانوں کی کمزوی پر آگاہ کر دیا ہے پھر کیا میں اب بھی بندوں پر بھروسہ کر سکتا ہوں۔۔۔اگر ایک شخص بھی تم میں سے میرے ساتھ نہ رہے تو بھی مجھے کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میرا خد امجھ سے کہتا ہے کہ میں تیرا ساتھ دوں گا۔" (الفضل ۳۰۔جولائی ۱۹۳۷ء)