سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 516
۵۱۶ سے پچھلے سال ایک افسر کے متعلق میرے پاس شکایت کی گئی تھی کہ وہ ماتحتوں کو " تو " کہہ کر مخاطب کرتا ہے۔حالانکہ وہ سلسلہ کا افسر تھا اور میں نے متواتر بتایا ہے کہ ہمارا معیار فضیلت اخلاق ہے۔یہ افسری ماتحتی تو صرف نظام کیلئے ہے تمدنی طور پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ممکن ہے افسر اخلاق کے لحاظ سے ادنیٰ اور ماتحت اعلیٰ ہو۔اسی طرح ممکن ہے بادشاہ اس لحاظ سے رعایا کے بعض افراد سے ادنی ہو۔انسانیت کے لحاظ سے چھوٹا بڑا کوئی نہیں۔ایک قربانی کرنے والا غریب یقینا ظالم بادشاہ سے ہزار گنا اعلیٰ ہے۔میں حیران ہوں کہ اس افسر نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ ماتحت پر اسے تمدنی طور پر بڑائی جتانے کا بھی حق حاصل ہے۔مجھے اس سے بہت افسوس ہوا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں چونکہ بہت جہالت ہے اس لئے بعض بچے اپنے والد کو بھی اوئے باپو " کہہ کر مخاطب کرتے ہیں لیکن ہمیں اسلام کے اخلاق دکھانے چاہئیں کیونکہ ہم نے تمدنی طور پر دنیا میں مساوات قائم کرنی ہے۔اگر ناظر کیلئے یہ جائز ہے کہ کلرک کو " تو " کہے تو خلیفہ کیلئے ناظر کو ایسا کہنا درست ہو گا مگر کیا اسے پسند کیا جائے گا؟ پس افسروں کو ماتحتوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا چاہئے کہ جس سے ظاہر ہو کہ وہ انہیں ادنی نہیں سمجھتے بلکہ برابر کاہی سمجھتے ہیں۔ہاں انتظام کے بارے میں ماتحت کا فرض ہے کہ افسر کی فرمانبرداری کرے۔اس کے احکام پر نکتہ چینی نہ کرے اور حجت نہ کرے کیونکہ یہ بھی بڑا نقص ہے اور مساوات کے اصول کے خلاف ہے۔ماتحت کا فرض ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اگر ضرورت ہو تو مؤدب طور پر اس کے متعلق اپنی رائے پیش کر دے اور پھر اطاعت کرے۔ماتحتوں کیلئے ملکیت کے اعتراف کا طریق یہی ہے کہ افسروں کی اطاعت کریں۔ہاں جو بات سچ ہو وہ کہہ دیں۔جو سچی بات کو چھپائے رکھتا ہے وہ نالائق ہوتا ہے۔اسی طرح افسر سمجھیں کہ خدا تعالیٰ نے اگر ان کو حکومت دی ہے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت کا نمونہ دکھانا چاہئے۔مزدور کو مزدوری وقت پر دینا بھی ضروری ہے۔یہ نہیں کہ بیچارے نے پیسے مانگے تو گالیاں دینے لگ گئے اور ٹھڈے مار کر نکال دیا۔جو شخص ایسا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی نقل نہیں کرتا اور انعامات کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کی ملکیت کی نقل کرتے ہیں۔پس اگر کوئی رعایا میں سے ہے تو اسے چاہئے اپنے حاکموں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جو خدا چاہتا