سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 515 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 515

۵۱۵ پہاڑیاں آتی ہیں پھر اس سے بڑی پہاڑیاں آتی ہیں۔پھر اس سے بڑی پہاڑیاں آتی ہیں یہاں تک کہ انسان پہاڑ پر چڑھ جاتا ہے اس طرح خدا ہر مخالفت کے بعد اس سلسلہ کو ترقی دیتا چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب خدا اپنے وعدوں کے مطابق اس سلسلہ کو ساری دنیا میں پھیلا دے گا۔اس کے بعد ہو سکتا ہے کہ سلسلہ میں بگاڑ پیدا ہو جائے وہ تکبر میں مبتلا ہو جائیں اور خدا تعالیٰ ان کو سزا دینے کے لئے ان سے اپنی برکات چھین لے اور یا پھر ممکن ہے کہ اس وقت تک قیامت ہی آجائے۔پس یا تو اس مقام پر پہنچ کر جب احمدیت اپنی تمام اندرونی طاقتیں ظاہر کر دے گی اور اپنی تمام قابلیتیں نمایاں کر دے گی لوگوں میں بگاڑ پیدا ہونے پر قیامت آجائے گی اور یا پھر اللہ تعالی اسلام کی ترقی کے لئے کوئی اور راستہ تجویز کرے گا۔بہر حال جس طرح زمین میں بیج ڈالا جاتا ہے تو اس کے بعد ضروری ہوتا ہے کہ فصل اگے اور پیج اپنی تمام مخفی طاقتیں ظاہر کرے۔اسی طرح روحانی جماعتیں جب اپنی تمام پوشیدہ طاقتیں ظاہر کر دیتی ہیں اور اپنے تمام حسن کو نمایاں کر دیتی ہیں تو اس کے بعد ان پر زوال آیا کرتا ہے اس سے پہلے (الفضل ۱۰ اگست ۱۹۷۰ء) اسلامی نظم و ضبط اطاعت و فرمانبرداری اور افسروما تحت کے باہم خوشگوار تعلقات پر حضور نے متعدد مقامات پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے۔ہمارے زمانہ میں مزدوروں میں پائی جانے والی عام بے چینی کی وجہ سے اس مسئلہ کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے تاہم اسلام کی متوازن اور پر حکمت تعلیم کو پیش نظر ر کھا جائے تو اس سلسلہ میں پیش آنے والی تمام مشکلات حل ہو جاتی ہیں۔حضرت فضل عمر سورۃ جمعہ کی تفسیر میں اس اہم مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔نہیں۔"خدا تعالیٰ کی حکومت بھی نظر نہیں آتی اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہی بات ہر شخص میں پیدا ہو۔ہر شخص بادشاہ ہے جو اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہو گا۔اس سے پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی بیوی ، بچوں ، مزدوروں کلرکوں اور ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ دیکھیں وہ اپنے دائرہ حکومت میں ایسے کام کر رہے ہیں یا نہیں جن سے ان کی تسبیح ہو ؟ اگر ایسا ہے تو وہ اس آیت کے مصداق ہو جاتے ہیں۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم اپنے ماتحتوں سے کیا سلوک کرتے ہیں۔کیا ہم اپنے ملازموں سے وہی سلوک کرتے ہیں جو خدا اپنے بندوں سے کرتا ہے۔پچھلے