سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 452
۴۵۲ سے سبق حاصل کریں اور ہمارے دل اس کے آستانہ محبت کے گرد لبَّيْكَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ کہتے ہوئے اس وقت تک گھومتے رہیں جب تک کہ شمع پروانے کو جلا کر اپنے نور میں غائب نہ کر دے اور ہمارا وجود لَا شَرِيكَ لَكَ کی بین دلیل نہ ہو جائے۔" الفضل ۴ مارچ ۱۹۳۷ء صفحه ۳ تا۸) اسلام کے اقتصادی نظام پر آپ کی مفصل و مدل نقار پر کتابی شکل میں طبع ہو چکی ہیں۔ان کتب میں آپ نے سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت سے مدلل موازنہ کرتے ہوئے اسلامی نظام کی برتری ثابت فرمائی ہے۔آپ اس علم کے ماہر نہ تھے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ آپ اس علم کے طالب علم بھی نہ تھے تاہم آپ نے موجودہ دنیا کے مسلمہ ماہرین اقتصادیات کے بہت سوچے سمجھے ہوئے نظاموں کے تار پود بکھیر کر رکھ دیئے اور زیادہ زمانہ گزرنے نہیں پایا کہ وہ خرابیاں اور کمزوریاں جو آپ نے بہترین انسانی دماغوں کے مفروضہ بہترین نظاموں میں بیان فرمائی تھیں وہ عملاً ظاہر ہو گئیں اور تجربہ نے بتا دیا کہ خدائی علم و معرفت سے بیان کی گئی باتیں ہی عمل و تجربہ کی کسوٹی پر پوری اتر سکتی ہیں۔اس موضوع پر خطاب کرتے ہوئے حضور نے یہ پر شوکت اعلان فرمایا :- " غرض نظام نو کی بنیاد ۱۹۱۰ ء میں روس میں نہیں رکھی گئی نہ وہ آئندہ کسی سال میں موجودہ جنگ کے بعد یورپ میں رکھی جائے گی بلکہ دنیا کو آرام دینے والے ہر فرد بشر کی زندگی کو آسودہ بنانے والے اور ساتھ ہی دین کی حفاظت کرنے والے نظام نو کی بنیاد ۱۹۰۵ء میں قادیان میں رکھی جا چکی ہے اب دنیا کو کسی نظام نو کی ضرورت نہیں۔اب نظام نو کا شور مچانا ایسے ہی ہے جیسے کہتے ہیں گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر جو کام ہونا تھا وہ ہو چکا اب یورپ کے مدیر صرف لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔اسلام اور احمدیت کا نظام نو دہ ہے جس کی بنیاد جبر پر نہیں بلکہ محبت اور پیار پر ہے۔اس میں انسانی حریت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے، اس میں افراد کی دماغی ترقی کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے اور اس میں انفرادیت اور عائلیت جیسے لطیف جذبات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔" (نظام نو صفحه ۱۲۵)