سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 442
۴۴۲ بسر کرتے ہوئے دیکھو گے۔پس اولاد کی محبت ایک ایسا طبعی جذبہ ہے جو صرف دیوانوں اور انسانیت سے خارج انسانوں کے دلوں سے ہی باہر ہوتا ہے ورنہ ہر انسان اس سے متاثر ہوتا ہے اور اس کے ماتحت اپنی زندگی کے اعمال بجالاتا ہے۔خواہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خواہ صرف حیوانی جذبہ سے متاثر ہو کر۔" پس آج کی عید ہمیں اس جذبے کی قربانی کی طرف رہنمائی کرتی ہے جو انسانی جذبات میں سے قوی تر اور وسیع تر ہے۔قوی ہے کہ اس سے زیادہ قوی کوئی اور انسانی جذ بہ نہیں اور وسیع ہے کہ اس سے زیادہ وسیع کوئی اور انسانی جذ بہ نہیں۔آج کے دن ہزاروں سال پہلے ابراہیم نے خدا سے حکم پایا کہ وہ اس چیز کو جس کو دنیا سب سے زیادہ عزیز قرار دیتی ہے اور جس کی زندگی کے لئے دنیا بھر کے باپ اور ماں زندہ رہ رہے ہیں وہ خدا کے لئے اسے قربان کر دے۔ابراہیم کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنے رب سے یہ نہیں پوچھا کہ اے میرے خدا یہ جذ بہ لطیف جو باپ کے دل میں اپنے بیٹے کی محبت کے متعلق پیدا ہوتا ہے یہ تو تیرا ہی پیدا کیا ہوا ہے اور ایک مقدس امانت ہے اس مقدس امانت کی قربانی کا مطالبہ کیا ایک غیر طبعی حکم نہیں ہے اور کیا اس ماں کے جذبات کو جس کی تمام امیدیں اس ایک نقطہ کے ساتھ وابستہ ہیں ایک ایسی ٹھیس نہیں لگے گی جس کا ازالہ بالکل ناممکن ہو گا۔ابراہیم بھول گیا اپنے جذبات کو او ر وہ بھول گیا ہاجرہ کے جذبات کو وہ بھول گیا اپنے آباء کی ارواح کے جذبات کو جو ابراہیم کے ذریعہ سے اپنی نسلوں کے دوام کی امیدوار تھیں اور ایسی حالت میں جب کہ وہ بوڑھا تھا اور ایک ہی اس کی اولاد تھی وہ اس ایک ہی اولاد کو ایسے وقت میں جبکہ دوسری اولاد کی امید نہیں کی جاسکتی تھی قربان کرنے کے لئے تیار ہو گیا بغیر ہچکچاہٹ کے بغیر سوال کے بغیر تشریح طلب کرنے کے بے چون و چرا گویا کہ یہ ایک ایسا عام واقعہ ہے جس میں کوئی بھی تعجب کی بات نہیں۔یا ایک ایسا فرض ہے جسے ہر انسان ہر روز ہی ادا کر رہا ہے اور اس میں کوئی اچنبھا نظر نہیں آتا۔اس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر گرایا اور چھری اپنے ہاتھ میں پکڑ لی اور اس کام کو جو بظاہر خلاف فطرت نظر آتا ہے ایسے شوق سے کرنے کے لئے تیار ہو گیا گویا انسان پیدا ہی اس کام کے لئے کیا گیا ہے۔انسان ابراہیم کے فعل کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اور چونکہ ابراہیم کے زمانہ کو ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے ایک مذہب سے ناواقف اور