سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 407
۴۰ کے لاکھوں پر بھاری ہوتے تھے لیکن جب یہ اتفاق و اتحاد مفقود ہو گیا پھر یہی مسلمان تھے کہ ان کو چھوٹی چھوٹی حکومتوں نے پسپا کر دیا اور تباہ کر ڈالا۔اسی تسلسل میں ہسپانیہ کے زوال کی درد بھری مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔" میری حالت رنج سے غیر ہوتی ہے جب میں تاریخ میں ہسپانیہ کا حال پڑھتا ہوں وہاں پر کتب کا وہ ذخیرہ تھا اگر وہ آج ہو تا تو ہمیں اسلام کی تائید میں نقلی طور پر بہت مدد ملتی لیکن تفرقہ نے جب اسلامی حکومت کو کمزور کر دیا تو وہ سلطنت ایسی مٹی کہ جہاں مسلمانوں کی حکومت تھی آج اس جگہ ایک بھی مسلمان نظر نہیں آتا۔مسلمانوں نے حملہ آوروں سے صرف اتنی اجازت چاہی تھی کہ ہمیں اپنی کتابیں لے جانے دو انہوں نے اجازت دیدی۔مسلمانوں نے کتابوں کا انتخاب کیا اور کئی جہاز بھر لئے جس وقت روانگی کا وقت آیا ظالموں نے مسلمانوں کے بھرے ہوئے جہازوں کو آگ لگا کر غرق کر دیا۔"مسلمانان سپین کا یہ نتیجہ کس لئے ہوا۔صرف اس لئے کہ انہوں نے اتفاق و اتحاد کو مٹا دیا۔پس میں تم کو نصیحت کرتا ہوں تم کو ہی نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے احمدیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ فتنہ سے بچیں اگر تم اتفاق و اتحاد کے رشتہ کو نہیں چھوڑو گے کامیابی نصرت فتح مندی و ظفریابی تمہارے ہمرکاب رہے گی ورنہ ہلاکت در پیش ہے کیونکہ فتنہ و فساد کا کچھ بھی علاج نہیں۔خدا نے اپنے فضل سے تم پر ایک نورانی کھڑکی کھولی ہے دنیا میں اس نور کو پھیلاؤ کہ خدا کے فضلوں کے وارث بنو۔فتنہ و فساد کی راہوں سے بچو کیونکہ یہ ہلاکت کی راہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اتفاق و اتحاد پر قائم رکھے۔فتنہ و فساد سے بچائے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ہماری جماعت کا شعار ہو۔اللہ تعالیٰ ان کو ہر میدان میں کامیابی دے۔ہماری جماعت تھوڑی اور دشمن زیادہ ہیں۔ہم کمزور ہیں دشمن قوی۔ہمارا آسرا صرف اس رب العالمین پر ہے جو رازقی ہے۔ہمارے تعلقات آپس میں نہایت اتفاق و اتحاد کے ہوں۔فتنہ و فساد سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ بچائے۔آمین۔الفضل ۴ ستمبر ۱۹۱۷ء)