سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 406 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 406

۴۰۶ "جب تک دنیا کے چپہ چپہ پر اسلام نہ پھیل جائے اور دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول نہ کر لیں اس وقت تک اسلام کی تبلیغ میں وہ کبھی کو تاہی سے کام نہ لیں۔خصوصاً اپنی اولاد کو میری یہ وصیت ہے کہ وہ قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولاد در اولاد کو نصیحت کرتے چلے جائیں کہ انہوں نے اسلام کی تبلیغ کو کبھی نہیں چھوڑنا اور مرتے دم تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنا ہے۔" (الفضل ۱۷۔فروری ۱۹۶۰ء) جماعت کو تفرقہ اور اختلاف سے بچنے اور قیامت تک آنے والے احمدیوں کو نصیحت اتحاد سے رہنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔" جماعت میں تفرقہ اندازی سے بڑھ کر ہلاکت کی راہ کوئی نہیں۔جو رستہ پہلے خطرناک ثابت ہوا ہو کوئی دانا اس پر نہیں چلتا۔کیا کوئی شخص ہے جو گلے پر چھری پھیر لیتا ہو ؟ ہر گز نہیں۔کیوں نہیں ؟ اس لئے کہ جانتا ہے کہ چھری پھیرنے سے گلا کٹ جائے گا۔کوئی نہیں جو سانپ کے بچے سے کھیلے وہ جانتا ہے کہ سانپ ڈنگ مارے گاجس سے جان جائے گی۔کوئی انسان نہیں دیکھا ہو گا جو جنگلی شیر کے منہ میں دیدہ و دانستہ اپنا ہاتھ ڈال دے کیونکہ جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ شیر چیر پھاڑ کر ٹکڑے کر ڈالے گا۔مگر فتنہ کی راہ اس سے بھی زیادہ تجربہ شدہ ہے۔سانپوں کے ڈسے ہوئے بچ جاتے ہیں شیر کے پھاڑے ہوؤں کا علاج ہو جاتا ہے ، آگ سے سلامتی ہو جاتی ہے اگر نہیں سلامتی تو فتنہ کے بعد نہیں۔کوئی نظیر نہیں بتلائی جا سکتی کہ فتنہ کے بعد کوئی قوم سلامت رہی ہو پس میں ہو شیار کرتا ہوں کہ ان تمام بلاؤں اور ہلاکتوں سے بچنے کا صرف ایک ہی گر ہے وہ ہے اتفاق و اتحاد۔جب تک اتفاق و اتحاد سے رہو گے اور جب تک اسی کوشش میں رہو گے کہ کسی طرح اس راہ کو نہ چھوڑیں۔کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی فتح نہیں پاسکے گا لیکن اگر یہ باتیں چلی گئیں اختلاف رونما ہو گیا تو چھوٹے چھوٹے آدمی بھی تم پر غالب آجا ئیں گے۔ایک وقت تھا کہ جب مسلمان اتفاق و اتحاد رکھتے تھے ان کے سینکڑوں ، غیروں