سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 386
۳۸۶ گے جو دوسروں نے نہیں پایا۔اپنی آنکھیں نیچی رکھو لیکن اپنی نگاہ آسمان کی طرف بلند کرو - فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضُهَا " (مکتوبات اصحاب احمد جلد اول صفحه ۴۴-۴۶) حضرت مصلح موعود نے ۱۹۴۸ء کے جلسہ سالانہ قادیان کی تقریب پر احمدی جماعتوں کے نام مندرجہ ذیل پیغام بھیجوایا۔اس پیغام میں حضور نے درویشان کرام کی حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے انہیں مبارکباد دی اور ساتھ ہی بدلے ہوئے حالات میں انہیں ان کی عظیم ذمہ داریوں کی طرف بڑے موثر رنگ میں تلقین فرمائی۔میں آپ لوگوں کو سالانہ جلسہ کے موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سنت قائم رکھنے کی توفیق پانے پر مبارکباد دیتا ہوں۔سنا گیا ہے کہ ہندوستان یونین نے سو کے قریب ہندوستانی احمدیوں کو جلسہ میں شامل ہونے کی اجازت دی ہے گو یہ اجازت بہت بعد میں ملی ہے اور شاید اس سے جماعت کے لوگ فائدہ نہ اٹھا سکیں لیکن اگر بعض افراد کو اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق ملی ہو تو میں انہیں بھی اس اہم موقع پر حصہ لینے پر مبارک باد دیتا ہوں۔برادران ! جماعتیں بڑے صدمات میں سے گذرے بغیر کبھی بڑی نہیں ہو تیں۔قربانی کے مواقع کا میسر آنا اور پھر قربانی کرنے کی قابلیت ظاہر کر دینا یہی افراد کو جماعتوں میں تبدیل کر دیتا ہے اور اس سے جماعتیں بڑی جماعت بنتی ہیں۔ہماری قربانیاں اس وقت تک بالکل اور قسم کی تھیں اور ان کو دیکھتے ہوئے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ ہماری جماعت کے بڑے بننے کے امکانات موجود ہیں۔مگر اب جو قادیان کا حادثہ پیش آیا ہے وہ اس قسم کے واقعات میں سے ہے جو قوموں کو بڑا بنایا کرتے ہیں۔اگر اس وقت ہماری جماعت نے اپنے فرائض کو سمجھا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کیا تو بڑائی اور عظمت اور خدائی برکات یقیناً اس کے شامل حال ہوں گی اور وہ اس کام کو پورا کرنے میں کامیاب ہو گی جو خد اتعالیٰ نے اس کے سپرد کیا ہے۔میں قادیان میں رہنے والے احمدیوں کو اس امر کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ دلاتا ہوں کہ وہ شور و شر کا زمانہ جس نے عمل کے مواقع کو بالکل باطل کر دیا تھا اب ختم ہو رہا ہے۔آہستہ آہستہ امن فساد کی جگہ لے رہا ہے۔بہت سی جگہوں کے راستے