سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 353 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 353

۳۵۳ طرح برستا دیکھا ہو اور اس کی محبت کا مشاہدہ کیا ہوا سے یہ کہنا کہ تم نے ایسا کیوں کہا ہے بالکل ویسی ہی بات ہے جیسے اس وقت میرے سامنے ہزاروں آدمی بیٹھے ہیں۔اور میں انہیں دیکھ رہا ہوں لیکن گورنمنٹ کی طرف سے کہا جائے کہ تم کہو کہ میں ان آدمیوں کو نہیں دیکھ رہا بھلا اس سے زیادہ حماقت کی اور کیا بات ہو گی۔جب وہ مجھے نظر آرہا ہے اور جب مجھے دکھائی دے کہ وہ میری تائید کے لئے دوڑا چلا آ رہا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ وہ میری تائید کے لئے دوڑا چلا آ رہا ہے۔اس پر اگر سیفٹی ایکٹ کے ماتحت مجھے نوٹس بھی دے دیا جائے تب بھی یہ ایک محض عارضی چیز ہے جب میرا خد امیری مدد کے لئے آئے گا تو سیفٹی ایکٹ آپ ہی آپ ختم ہو جائے گا۔" (المصلح ۲۶۔اکتوبر ۱۹۵۳ء) اس پیغام کے سلسلہ میں ایک اور موقع پر حضور فرماتے ہیں۔اس وقت بعض افسروں نے کہا کہ آپ کے اس فقرہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے میں نے ان کو جواب دیا کہ جب مجھے خدا آتا ہوا نظر آتا ہے تو کیا میں جھوٹ بولوں ؟ خدا تعالی ہمیشہ ہی اپنے بچے بندوں کی مدد کے لئے آیا کرتا ہے اور اب بھی آئے گا اور ہمیشہ ہی آتا رہے گا اگر یہ سلسلہ جاری نہ ہو تو خدا تعالیٰ کے دین کے خادم تباہ ہو جائیں اور ان کے دل غم سے ٹوٹ جائیں۔" (الفضل ۱۰۔جولائی ۱۹۵۷ء) دشمن جماعت کا نام و نشان مٹانے کے درپے ہے۔ہر قسم کے سازو سامان اور کثرت پر نازاں ہے اسے اپنی ناکامی کا کوئی اندیشہ نہیں ہے اس کے مقابل پر جماعت کی کس مپرسی بے بسی اور بے مائیگی جنگ بدر کے ۳۱۳ نتے اور کمزور صحابہ کی سی ہے۔مگر خدا تعالیٰ پر ایمان و ایقان بھی اس درجہ کا نظر آتا ہے جو اولیاء اللہ سے ہی مخصوص ہے۔ان حالات میں جماعتوں سے رابطہ رکھنے کا کام انتہائی ضروری تھا۔حضور نے اس امر کی طرف بطور خاص توجہ فرمائی۔فاروق میں جو پیغام شائع ہو ا تھا اس میں حضور نے فرمایا۔انشاء اللہ آپ کو اندھیرے میں نہیں رہنے دیں گے " یہ پیغام ۳۔مارچ کو شائع ہوا تھا۔تین مارچ کو ہی حضور نے مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد مورخ احمدیت کی نگرانی میں دفتر اطلاعات جسے بعد میں دفتر ریکارڈ کہا جاتا رہا قائم فرمایا۔اس انتظام کے ماتحت کراچی سے المصلح اخبار کے اجراء تک اطلاع ناموں اور خطوط کے ذریعہ جماعت کو