سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 348
۳۴۸ وقت میں جب کہ مسلمانوں کو چاروں طرف سے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے اتحاد اور یک جہتی کی ضرورت ہے اس طرز پر قادیانیت کو اپنی تنقید کا ہدف بنائیں۔شاید قارئین کو تعجب ہو گا جب انہیں یہ معلوم ہو گا کہ سارے عراق میں اس - جماعت کے صرف ۱۸ خاندان بستے ہیں۔9 خاندان بغداد میں چار بصرہ میں چار حبانیہ میں اور ایک خاندان خانقین میں۔اور یہ سب لوگ ہندوستان سے عراق میں تجارت کی نیت سے آئے تھے۔بعض نے ان میں سے عراقی قومیت کے سرٹیفکیٹ حاصل کر لئے ہیں اور بعض اپنی ہندوستانی قومیت پر قائم رہے جسے انہوں نے ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستانی قومیت میں تبدیل کر لیا۔عراق میں اتنے عرصہ سے رہنے کے باوجود انہوں نے کسی عراقی شخص کو اپنی جماعت میں داخل نہیں کیا۔ان کا کوئی اپنا معبد نہیں ہے اور نہ ہی ان کے کوئی خاص مذہبی اجتماعات ہیں۔ان کی ساری جدوجہد بعض اخبارات اور ایسے ٹریکٹ تقسیم کرنے میں منحصر ہے جن میں اسلام کے غلبہ کے متعلق دلائل دیئے گئے ہیں یا فلسطین اور بعض اسلامی حکومتوں کے دفاع پر گفتگو کی گئی ہے۔اس جگہ پر پڑھنے والے کے دل میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ جب واقعہ یہ ہے تو اخبارات میں قادیانیوں پر اس طرح نکتہ چینی کرنے اور اس حملے کی کیا وجہ ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس کا صرف ایک سبب ہے اور وہ یہ کہ استعماری طاقتیں مسلمانوں میں تفرقہ اور شقاق پیدا کرنے کیلئے خاص کو شش کر رہی ہیں اور وہ انہیں اپنی انگلیوں پر نچانا چاہتی ہیں کیونکہ مسلمان ابھی تک اس انتظار میں ہیں کہ وہ یوم موعود کب آتا ہے کہ جب وہ دوبارہ بلاد مقدسہ کو یہودیت کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے متحدہ قدم اٹھا ئیں گے اور فلسطین اس کے جائز اور شرعی حقداروں کو مل سکے گا۔استعماری طاقتیں ڈرتی ہیں کہ کہیں عربوں کا یہ خواب پورا نہ ہو جائے اور اسرائیلی سلطنت صفحہ ہستی سے مٹ نہ جائے جس کے قائم کرنے کے لئے انہوں نے بڑی بڑی مشکلات برداشت کی ہیں اس لئے یہ غیر ملکی حکومتیں ہمیشہ کوشش کرتی ہیں کہ مسلمانوں میں مختلف نعرے لگوا کر منافرت پیدا کی جائے اور بعض فرقے احمدیوں کی تکفیر اور ان پر نکتہ چینی کرنے کے لئے کھڑے ہو جائیں یہاں تک کہ اس طریق سے حکومت پاکستان