سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 22 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 22

ہو جس سے اس کے وقار کو صدمہ ہو"۔فلم تیار کرنے کی تجویز کو اس زمانہ کے حالات کے مطابق حضور نے غیر پسندیدہ قرار دیتے ہوئے نا منظور فرمایا۔موجودہ حالات میں میری رائے یہی ہے کہ مشاعروں میں تکلف مشاعرہ کے متعلق ہدایت زیادہ پایا جاتا ہے اس لئے بجائے اس کے عام تحریک کر دینی چاہئے کہ دوست شعر کہیں اس طرح جو نظمیں آئیں ان کو تقریروں کے دوران میں ہی پڑھنے کا موقع دے دیا جائے۔(یہ نظمیں بلاوجہ لمبی نہ ہوں) خلاف ادب مضامین ان میں نہ ہوں۔خلاف علم نہ ہوں اور صرف وہی نظمیں پڑھنے کی اجازت دی جائے جو دینی جوش کے ماتحت کہی گئی ہوں۔" (رپورٹ مشاورت ۱۹۳۹ء) میں ہی فیصلہ کرتاہوں کہ منارة المسیح پر روشنی کا انتظام چراغاں کے متعلق ہدایت کرایا جائے تا اللہ تعالیٰ نے احمدیت کی روشنی کو جو بڑھایا ہے اس کا ظاہری طور پر بھی اظہار ہو جائے۔باقی اس موقع پر صدقہ و خیرات کر دیا جائے اور چونکہ قادیان کے غریب احمدی تو لنگر خانہ سے کھانا کھائیں گے اس لئے یہاں صدقہ کیا جائے وہ ان غیر احمد یوں بلکہ ہندوؤں اور سکھوں کو بھی دیا جائے۔اس بابرکت موقع پر پہلی دفعہ لوائے احمدیت لہرایا گیا۔جھنڈے کی تیاری کے سلسلہ میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت و عقیدت اور رفقائے حضرت مسیح موعود کی عزت و تکریم کی ایک بہت ہی پیاری اور نادر مثال قائم کرتے ہوئے یہ طریق اختیار فرمایا کہ: " میرا خیال ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے پیسہ پیسہ یا دھیلہ دھیلہ کر کے ایک مختصر ی رقم لے کر اس سے روئی خریدی جائے اور صحابیات کو دی جائے کہ وہ اس کو کا تیں اور اس سوت سے صحابی درزی کپڑا تیار کریں۔اسی طرح صحابہ ہی اچھی سی لکڑی تراش کر لائیں پھر اس کو جماعت کے نمائندوں کے سپرد کر دیا جائے کہ یہ ہمارا پہلا قومی جھنڈا ہے اس طرح جماعت کی روایات اس سے اس طرح وابستہ ہو جائیں گی کہ آئندہ آنے والے لوگ اس کے لئے ہر قربانی کیلئے تیار رہیں گے۔" (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء)