سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 300 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 300

پیدا کریں اور اقتصادی حالت کو اونچا کرنے کی کوشش کریں۔" (الفضل ۱۴۔دسمبر۷ ۱۹۴ء) حضور کا اس انتہائی اہم سلسلہ مضامین میں سے چوتھا مضمون ” بری ، فضائی اور بحری دفاعی طاقت کے لحاظ سے پاکستان کا مستقبل " کے موضوع پر تھا۔اس نازک اور حساس موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔موجودہ زمانہ میں جنگ تین ظاہری اور دو مخفی طریقوں سے لڑی جاتی ہے۔جو یہ ہیں۔(1) بری۔(۲) فضائی (۳) بحری (۴) اقتصادی دباؤ۔(۵) فتہ کالم۔سب سے پہلے میں بری کو لیتا ہوں۔اس میں پیادہ فوج ، ٹیکنیکل فوج توپ خانه خوراک لباس و غیره کی سپلائی اور سٹور کرنے والے علاج کرنے والے اور پیرا شوٹر ز شامل ہیں۔اس کے بعد حضور نے نہایت تفصیل کے ساتھ پاکستان کی دفاعی طاقت کا جائزہ لیا۔اس کے بعض قابل توجہ پہلوؤں کی نشاندہی فرمائی اور بعض ایسے اہم اور مفید طریق بتائے جو دفاع پاکستان کے لئے اس دور میں مفید تھے۔حضور نے پاکستان کی فضائی طاقت کو مضبوط بنانے پر بھی بہت زور دیا اور فرمایا کہ عوام میں فضائی تربیت حاصل کرنے کا رجحان پیدا کرنا چاہئے اور یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اس کا انتظام کرنا چاہئے۔اس ضمن میں حضور نے فرمایا کہ ضرورت کے وقت ہوائی جہاز تو ایک دن میں خریدے جا سکتے ہیں لیکن آدمی ایک دن میں تیار نہیں ہو سکتے۔لہذا ابھی سے اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔حضور کی تقریر کے بعد صاحب صدر میاں فضل حسین صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں حضور کی پیش کردہ تجاویز پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت ضرورت ہے کہ پاکستان کا ہر فرد فوجی تربیت حاصل کرے۔" (الفضل ۲۱ دسمبر۷ ۱۹۴ء) اس سلسلہ کا پانچواں لیکچر بحری دفاع اور سیاسی دفاع کے موضوع پر تھا۔حضور نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا۔ملکوں کی بحری طاقت مختلف اقسام کے جہازوں پر مشتمل ہوتی ہے۔پھر حضور نے بحری طاقتوں کی اہمیت اور ضرورت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس وقت