سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 278 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 278

۲۷۸ جناب ملک صاحب کی خدمت میں گزارش کرنی چاہئے کہ اب وہ صورت نہیں رہی کہ پاکستان کے مطالبے کا تعلق مرکزی حکومت کے ساتھ ہے اور صوبائی حکومتیں اس سے ش میں الگ میں کیونکہ وزیر اعظم اٹیلے کے اعلان کے بعد صوبائی حکومتیں لازما اس کشمکش کھینچ لی جائیں گی اور مسلم لیگ اور پاکستان کے لئے یہ امر بہت کمزوری کا باعث ہو گا کہ پنجاب میں اختیارات حکومت ایک ایسی پارٹی کے ہاتھ میں ہوں جس کی اکثریت غیر مسلم ہے۔ساتھ ہی مجھے کچھ حجاب بھی تھا کہ میں سیاسیات سے باہر ہوتے ہوئے اور پنجاب کے تفصیلی حالات سے واقفیت نہ رکھتے ہوئے جناب ملک صاحب کی خدمت میں کوئی ، ایسی گزارش کروں جسے وہ بیجا جسارت شمار کرتے ہوئے قابل التفات شمار نہ کریں۔ادھر ہر لحظہ جوں جوں میں وزیر اعظم برطانیہ کے اعلان پر غور کر تا میری پریشانی میں اضافہ ہو تا۔دو دن اور راتیں میں نے اسی کشمکش میں گزاریں۔مجھے بہت کم کبھی ایسا اتفاق ہوا ہے کہ میں رات آرام سے نہ سو سکوں لیکن یہ دونوں راتیں میری بہت بے چینی کی نذر ہوئیں۔آخر میں نے تیسری صبح جناب ملک صاحب کی خدمت میں عریضہ لکھا اور انہیں ان کی ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے گزارش کی کہ انہیں اس مرحلہ پر وزارت سے استعفیٰ دے کر مسلم لیگ کا رستہ پنجاب میں صاف کر دینا چاہئے اور اپنی ذمہ داری سے سر خرو ہو جانا چاہئے۔اس عریضہ کے ارسال کرنے کے تیسرے دن جناب ملک صاحب نے ٹیلیفون پر مجھے فرمایا۔تمہارا خط مجھے مل گیا ہے۔میں ٹیلیفون پر مختصر بات ہی کر سکتا ہوں۔مجھے اصو نا تمہارے ساتھ اتفاق ہے لیکن میں مزید مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔تم ایک دن کیلئے لاہور آجاؤ۔میں نے گزارش کی میں انشاء اللہ آج رات روانہ ہو کر کل صبح حاضر خدمت ہو جاؤں گا۔میرے حاضر ہونے پر جناب ملک صاحب نے فرمایا۔جیسے میں نے ٹیلیفون پر تم سے کہا تھا مجھے اصولاً تمہارے ساتھ اتفاق ہے لیکن میں تمہاری یہاں موجودگی میں بھائی اللہ بخش ( نواب سر اللہ بخش خان ٹوانہ کے ساتھ مشورہ کرنا چاہتا ہوں اور پھر مظفر نواب سر مظفر علی قزلباش سے بھی مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔مظفر نے ہر مرحلے پر میرا ساتھ دیا ہے میں بغیر ان دو کے مشورہ کے کوئی پختہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔جناب نواب سر اللہ بخش خان صاحب تو جناب ملک صاحب کے بنگلے کے باغ میں خیمے میں فروکش تھے ہم دونوں