سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 18 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 18

۱۸ کرتے ہوئے فرمایا تھا۔اس جلسہ کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے رکھی ہے اور اس کے لئے قو میں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔" اشتہارے۔دسمبر ۱۸۹۲ء) حضور کامذ کورہ بالا ارشاد پیش کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔پس اس جلسہ میں شمولیت بڑے ثواب کا موجب ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ دوستوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمادے کہ وہ پہلے سے کئی گنا زیادہ تعداد میں جلسہ پر آئیں اور پہلے سے کئی گنا زیادہ اخلاص لے کر جائیں اور پھر وہ خود بھی اور ان کی بیویاں بھی اور ان کے بچے بھی ایسا ایمان اپنے اندر پیدا کریں جو پہاڑ سے بھی زیادہ بلند ہو اور دنیا کی کوئی محبت اور تعلق اس محبت اور تعلق کے مقابلہ میں نہ گھر سکے جو انہیں سلسلہ اور اسلام سے ہو۔آمین۔" (الفضل ۱۸۔نومبر ۱۹۵۶ء) سالانہ جلسوں کے کوائف و تفاصیل کا بہ نظر غور جائزہ لیا جائے تو ہر جلسہ بے شمار خدائی نشانوں اور تائید و نصرت کا جلوہ و اظهار نظر آتا ہے۔اس جگہ ایسا تفصیلی جائزہ پیش کرنا ممکن نہیں ہے تاہم تاریخ احمدیت کا ایک غیر معمولی جلسہ جو جلسہ خلافت جوبلی کے نام سے مشہور ہوا کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس کی کسی قدر تفصیل آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے۔خلافت ثانیہ کی نعمت عظمی۔خدائی تائید و نصرت جلسہ خلافت جو بلی۔جلسہ شکر و امتنان کے حصول کا ذریعہ اور جماعتی اتحاد و یک جہتی کی حبل اللہ کا پچیس سالہ کامیاب دور پورا ہونے پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ذہن میں یہ تجویز آئی کہ دنیوی حکومتیں اور لیڈر سلور جوبلی اور گولڈن جوبلی وغیرہ مناتے ہیں مگر ہمیں تو خلافت جیسی نعمت حاصل ہے۔جس کا بدل اور جس کی مثال اس وقت نہ کسی جمهوری خلافت و حکومت کے پاس ہے اور نہ ہی کسی مذہبی گروہ یا جماعت کو حاصل ہے اور ہمارا قائد و راہنما بھی اپنی مثال آپ ہے۔لہذا خلافت ثانیہ کے پچیس سال اور قیام سلسلہ کے پچاس سال پورے ہونے پر تحدیث نعمت اور اظہار تشکر منایا جائے۔آپ فرماتے ہیں جب اس سلسلہ میں بعض دوستوں سے ذکر ہوا تو انہوں نے نہ صرف اس تجویز کو پسند کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ ان کے ذہن میں بھی یہ بات