سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 242
۲۴۲ جائز نہیں قرار دے سکتا۔وہ ہماری جیبوں سے سکھوں کو عارضی طور پر روکے رکھنے کی قیمت دلوانا چاہتی ہے لیکن ہم نیلام ہونے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہیں۔ذمہ دار افسر دو سال سے ہمیں یہ کہتے چلے آتے ہیں کہ مدیح کا فیصلہ ہو گیا ہے۔بس اب جاری ہونا ہے کچھ دن آپ لوگ اور صبر کریں۔اپنے حقوق چھوڑ کر بھی سکھوں کو خوش رکھیں تا کہ مدیح کے کھولنے میں دقت نہ ہو۔یہی آواز ہے جو ڈیڑھ سال سے ہمارے کانوں میں پڑ رہی ہے لیکن ہنوز روز اول والا معاملہ ہے۔مدیح ہمارا حق ہے، اس حق کے لینے کے لئے زائد قیمت ادا کرنے کے معنی ہی کیا ہوئے۔لطف یہ ہے کہ جو تعزیری چوکی بٹھائی گئی ہے۔علاوہ اس کے کہ اس کا رویہ نهایت قابل اعتراض ہے اس کے آنے پر چوریاں بڑھ گئی ہیں اور لوگ شبہ کرتے ہیں کہ یہ چوریاں خود بعض پولیس کے آدمی اس لئے کروا رہے ہیں تا کہ تعزیری چوکی کی معیاد بڑھائی جاسکے۔نیت کو اللہ تعالی جانتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیان میں پچھلی سردیوں میں اس قدر چوریاں ہوئی ہیں کہ اس سے پہلے کئی سالوں میں بھی اس قدر نہ ہوئی ہوں گی۔پس اگر بد دیانتی نہیں تو بعض لوکل افسروں کی نالائقی اس سے ضرور ثابت ہوتی ہے۔" دوسری عجیب بات یہ ہے کہ اس چوکی کا خرچ جو علاقہ پر تقسیم کیا گیا ہے اس میں مسلمانوں پر خاص ظلم کیا گیا ہے حالانکہ قصور سکھوں کا تھا۔کمین لوگ جو بیچارے نہایت محنت سے مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتے ہیں، ان پر بار بہت زیادہ ڈالا گیا ہے اور سکھ زمینداروں پر بہت کم ڈالا گیا ہے۔یہ ظلم برابر جاری ہے اور باوجو د توجہ دلانے کی اس کی اصلاح نہیں ہوئی"۔اس زمانے کے اخبارات سے پتہ چلتا ہے کہ اس قابل نفرت اقدام نے ہندوستان بھر کے مسلمانوں میں غم و غصہ کی زبر دست بر دو ژادی اور مسلم پریس نے ایسا شاندار متحدہ احتجاج کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ انقلاب لاہور مدینہ بجنور، پیغام صلح لاہور ، منادی دیلی الجمعیۃ دہلی، دور جدید لاہور ، تازیانہ لاہور مسلم آوٹ لک لاہور ، وکیل امرتسر مونس اٹاوہ اہلحدیث امرتسری زمیندار لاہور الامان ، دہلی ، شهاب راولپنڈی، حقیقت لکھنو ، ہمت لکھنو نے اس مسئلہ پر پُر زور اداریے لکھے۔اس کے علاوہ ضلعی مسلم لیگ امرتسر، مسلم لیگ گورداسپور اور مجلس خلافت پنجاب