سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 14 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 14

۱۴ قادیان کے شمال کی طرف سے ہو کر گزرے مگر ریلوے حکام اور علاقہ کی غیر احمدی اور غیر مصر آبادی اسے جنوب سے گزارے جانے کیلئے انتہائی جوش اور سرگرمی سے کوشش کر رہی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اپنی فراست و بصیرت سے اس صورت حال کو پہلے سے معلوم کر لیا اور اس کی روک تھام کیلئے ابتداء ہی میں ایک خاص انتظام سے ایک زبر دست مہم شروع کرا دی جس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیابی ہوئی۔چنانچہ لائن قادیان کے شمالی جانب تعمیر کی گئی بلکہ ای خسرہ نمبر سے آئی اور اس مجوزہ جگہ پر سٹیشن بنا جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پہلے تجویز فرما چکے تھے۔اس سے کچھ عرصہ قبل قادیان میں تار اور فون کی سہولت بھی حاصل ہو چکی تھی۔حضرت فضل عمر نے قادیان کے تار گھر سے بعض بیرونی جماعتوں کو مندرجہ ذیل تار دے کر اس کا افتتاح فرمایا۔حضور نے محض رسمی افتتاح کی بجائے اس موقع کو بھی وعظ و تربیت کے لئے استعمال فرماتے ہوئے جماعت کے مقصد وحید کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا۔خدا تعالیٰ کا شکر اور احسان ہے کہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے مرکز قادیان میں تار برقی آجانے کے سبب قادیان کا تعلق بیرونی دنیا کے ساتھ قائم ہو گیا ہے۔تار کا یہاں آنا بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان پیشگوئیوں کا پورا ہونا ہے جو آپ نے قادیان کی ترقی اور معموری کے لئے فرمائیں۔میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہو ا تمام ان شخصوں کو جو احمدی کہلاتے ہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسلام کو دنیا میں پھیلانے اور اس مقصدِ وحید کو بہت جلدی پورا کرنے کے لئے اپنی تمام تر کوششوں اور ہمتوں کو صرف کرنے میں مشغول ہو جائیں کہ جس کے لئے خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔" فرمایا :- الفضل ۱۲ جنوری ۱۹۲۶ء) قادیان میں لاؤڈ سپیکر کی سہولت میسر آئی تو اس پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے حضور نے خدا نے جہاں اجتماع کے ذرائع بہم پہنچائے وہاں لوگوں تک آواز پہنچانے کا ذریعہ بھی اس نے ایجاد کروا دیا اور ہزاروں ہزار اور لاکھوں لاکھ شکر ہے اس پروردگار کا جس نے اس چھوٹی سی بستی میں جس کا چند سال پہلے کوئی نام بھی نہیں جانتا تھا اپنے مامور کو