سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 158
۱۵۸ والیان ریاست اور لیڈروں کا کیریکٹر غلامی کے باعث اس قدر پست ہے کہ یہ غلط خوشامد اور چاپلوسی کو ہی ملک یا حکومت کی خدمت سمجھ رہے ہیں۔ہمارے والیانِ ریاست اور لیڈروں کی اس احمقانہ خوشامد کی موجودگی میں قادیان کی احمدی جماعت کے پیشوا کی اخلاقی جرات آپ کا بلند کیریکٹر اور آپ کی صاف بیانی دلچسپی اور مسرت کے ساتھ محسوس کی جائے گی۔جس کا اظہار آپ نے پچھلے ہفتہ اپنی ریڈیو کی ایک تقریر میں ریاست ۲ - جون ۱۹۴۱ء بحوالہ الفضل ۷۔جون ۱۹۴۱ء) کیا۔" آج سے نصف صدی قبل جب کہ عالم اسلام کے تمام ممالک اور انڈونیشیا کی آزادی حکومتیں استعماری طاقتوں کے پنجے میں دبی ہوئی اپنی آزادی کا تصور بھی نہ کر سکتی تھیں اس وقت عالم اسلام کے لئے در در رکھنے والا ایک وجود قادیان میں بیٹھا ہوا سارے عالم اسلام کی بہتری کیلئے دن رات دعاؤں میں مشغول رہنے کے علاوہ دور رس نتائج کے حامل مفید مشوروں سے راہنمائی کر رہا تھا۔آج جب ہم تاریخ کے اوراق پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہم اپنے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا سامان پاتے ہیں کہ ہمارے مؤید مِنَ اللہ امام نے ان مشوروں میں انسانی فلسفہ اور تدبر کو پیش نہیں کیا تھا بلکہ اس کے الفاظ میں خدا کی تقدیروں کے اسرار و رموز کھلتے تھے اور ملائکہ کی فوجیں اس کی تائید میں ایسی لہریں چلاتی تھیں جو بالآخر اس کی سکیم کی کامیابی پر منتج ہوتی تھیں۔حضور نے انڈو نیشیا کی آزادی کی اہمیت اور اس غرض کیلئے اس عظیم اسلامی ملک کی ہر ممکن مدد کی تحریک کرتے ہوئے اپنے بصیرت افروز بیان میں فرمایا :۔” جو حالات آج کل ہمارے ملک میں پیدا ہو رہے ہیں یہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو پھر بیدار ہونا چاہئے اور اپنے مذہب کو ایسے مقام پر کھڑا کرنا چاہئے کہ وہ تمام مذاہب کو اپنے حملوں سے خاموش کرا دے۔۔۔ہماری جماعت کو گو سیاست سے کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی ہم سیاسیات میں الجھ کر اپنی توجہ مذہبی کاموں سے پھیرنا چاہتے تھے لیکن بعض اوقات ہمیں حالات مجبور کر دیتے ہیں اور ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ ہم سیاسیات میں حصہ لیں۔ایسی حالت میں ہم مجبوراً حصہ لیتے ہیں۔فرض کرو جب کہ ڈاکٹر مونجے کا خیال ہے کہ مسلمان ہندوستان سے نکل جائیں اور کسی وقت ہندو اکثریت یہ قانون بنادے کہ مسلمان ہندوستان سے چلے جائیں تو ایسی حالت میں احمدی بھی باقی مسلمانوں میں شامل سمجھے جائیں گے اور ان کو یہ اجازت