سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 157 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 157

۱۵۷ امداد کرنی چاہئے کہ یہ اپنی ہی امداد ہے۔شاید رشید علی جیلانی کا خیال ہو کہ سابق عالمگیر جنگ میں عربوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ایک متحد عرب حکومت کے قیام میں ان کی مدد کی جائے گی مگر ہوا یہ کہ عرب جو پہلے ترکوں کے ماتحت کم سے کم ایک قوم تھے اب چار پانچ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔بے شک انگریزوں نے عراق کو ایک حد تک آزادی دی ہے مگر عربوں نے بھی سابق جنگ میں کم قربانیاں نہ دی تھیں۔اگر اس غلطی کے ازالہ کا عہد کر لیا جائے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ سب اسلامی دنیا متحد ہو کر اپنے علاقوں کو جنگ سے آزاد رکھنے کی کوشش کرے گی اور بالواسطہ طور پر اس کا عظیم الشان فائدہ انگریزی حکومت کو بھی پہنچے گا۔اس جنگ کے بعد پولینڈ اور چیکو سلو یکیہ کی آزادی کا ہی سوال نہیں ہونا چاہئے بلکہ متحدہ عرب کی آزادی کا بھی سوال حل ہو جانا چاہئے جس میں سے اگر یمن ، حجاز اور نجد کو الگ رکھا جائے تو کوئی حرج نہیں۔مگر شام، فلسطین اور عراق کو ایک متحد اور آزاد حکومت کے طور پر ترقی کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔انصاف اس کا تقاضا کرتا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ اس انصاف کے تقاضا کو پورا کر کے برطانوی حکومت آگے سے بھی زیادہ مضبوط ہو جائے گی۔" الفضل ۲۷۔مئی ۱۹۴۱ء صفحہ ۱۔۲) حضور کے اس جرات مندانہ اور بصیرت افروز بیان پر ایک غیر مسلم صحافی سردار دیوان سنگھ مفتون نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:۔غلام عوام اور غلام ملک کے کیریکٹر کا سب سے زیادہ کمزور پہلو یہ ہوتا ہے کہ ان کے افراد اخلاقی سچائی اور جرات سے محروم ہو جاتے ہیں اور چاپلوسی، جھوٹ خوشامد اور بزدلی کی سیرت ان میں نمایاں ہو جاتی ہے۔عراق کا رشید علی برطانوی رعایا کے نقطہ نگاہ سے غلطی پر ہو یا اس کا برطانیہ سے جنگ کرنا غیر مناسب ہو مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ یہ شخص اپنے ملک کی سیاسی آزادی کیلئے بڑھ رہا ہے اور اس کو کسی قیمت پر بھی اپنے ملک کا غدار یا ٹریٹر قرار نہیں دیا جا سکتا مگر ہمارے غلام ملک کے والیانِ ریاست اور لیڈروں کا کیریکٹر دیکھئے جو والی ریاست عراق کے متعلق تقریر کرتا ہے رشید علی کو غدار کہہ کر پکارتا ہے۔اور جو لیڈر جنگ کے متعلق بیان دیتا ہے سب سے پہلے رشید علی کو ٹریٹر (Traitor) قرار دیتا ہے اور پھر اپنے بیان کی بسم اللہ کرتا ہے اور ان