سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 140
۱۴۰ جب مدینہ میں داخل ہونے کا وقت آیا تو یہ غیرت مند صحابی اپنے باپ کا رستہ روک کر کھڑا ہو گیا اور اسے اس وقت تک شہر میں داخل نہ ہونے دیا جب تک اس سے یہ نہ کہلوالیا کہ ”میں مدینہ کا سب سے ذلیل آدمی ہوں اور محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) مدینہ کے معزز ترین فرد ہیں"۔یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضور نے اپنے خطاب کے آخر میں فرمایا :۔ہم ایک دفعہ پھر یہاں جمع ہوئے ہیں خدا تعالٰی کی عنایت اور اس کی مہربانی سے آؤ ہم بچے دل سے یہ عہد کریں کہ ہم کم سے کم عبد اللہ جتنا ایمان دکھائیں گے اور جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا اقرار دنیا سے نہیں کروالیں گے اس وقت تک ہم اطمینان اور چین سے نہیں بیٹھیں گے۔(الفضل ۳۱۔دسمبر ۱۹۴۹ء)