سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 106 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 106

1۔4 اس کے بعد حضور نے بڑے خشوع و خضوع سے تین تین بار دہراتے ہوئے ابراہیمی دعائیں پڑھیں اور پھر اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا۔یہ وہ دعائیں ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے بساتے وقت کیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول فرما کر ایک ایسی بنیاد رکھ دی جو ہمیشہ کے لئے نیکی اور تقوی کو قائم رکھنے والی ثابت ہوئی۔مکہ مکرمہ مکہ مکرمہ ہی ہے اور ابراہیم ابراہیم ہی ہے مگر وہ شخص بے وقوف ہے جو اس بات کا خیال کر کے کہ مجھے وہ درجہ حاصل نہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل تھایا میری جگہ کو وہ درجہ حاصل نہیں جو مکہ مکرمہ کو تھا اس لئے وہ خدا تعالیٰ سے بھیک مانگنے سے دریغ کرے۔جب خدا کسی عظیم الشان نعمت کا دروازہ کھولتا ہے تو اس کی رحمت اور بخشش جوش میں آرہی ہوتی ہے اور دانا انسان وہی ہوتا ہے جو اپنا برتن بھی آگے کر دے کیونکہ پھر اس کا برتن خالی نہیں رہتا۔فقیروں کو دیکھ لو جب لوگ شادی کر رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ان پر اخراجات کا بوجھ اور دنوں سے زیادہ ہو تا ہے مگر اس کے باوجو د وہ نہیں کہتے کہ ہم کیوں سوال کریں اس وقت تو خودان پر شادی کے اخراجات کا بوجھ پڑا ہوا ہے بلکہ جب کسی گھر میں شادی ہو رہی ہوتی ہے وہ بھی اپنا برتن لے کر پہنچ جاتے ہیں اور گھر والا اور دنوں کی نسبت ان کے برتن میں زیادہ ڈالتا ہے کیونکہ اس وقت اس کی اپنی طبیعت خرچ کرنے پر آئی ہوتی ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص کسی بزرگ کی نقل کرتا ہے تو چاہے وہ اس کے درجہ تک نہ پہنچا ہوا ہو جب بھی وہ اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کی کمزوری کو دیکھ کر اس سے زیادہ بخشش کا سلوک کرتا ہے۔ماں باپ اپنے بچہ سے اس وقت زیادہ پیار کرتے ہیں جب وہ چھوٹا ہوتا ہے۔اور جب وہ کھڑے ہونے کی کوشش کرتا ہے تو گر جاتا ہے۔لیکن ایک بالغ بچہ جب چل پھر رہا ہو تا ہے تو ماں باپ کے دل میں محبت کا وہ جوش پیدا نہیں ہوتا جو ایک چھوٹے بچے کے متعلق پیدا ہوتا ہے۔پس کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ خانہ کعبہ کے ذریعہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے دین کی ایک آخری بنیاد قائم کی گئی تھی اس سے ہمارے گھروں کو کیا واسطہ ہے ؟ اسی کا واسطہ دے کر مانگنا ہی تو خدا تعالیٰ کی رحمت کو بڑھاتا ہے اور انہی کی نقل کرنا ہی تو اصل چیز ہے۔جو شخص کمزور ہے اور کمزور ہو کر چاہتا ہے کہ میں محمد رسول اللہ مل ہی کی طرح چلوں اللہ تعالیٰ اس کی