سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 101
١٠١ بناء رکھنے میں نہایت دور اندیشی اور صحیح تخیل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔اس شہر کی آباد کاری کے لئے بارہ سو ایکڑ اراضی کا ایک قطعہ منتخب کیا گیا ہے اور اس کا نام ربوہ تجویز ہوا ہے۔پکی شاہراہ سے چند قدموں کے فاصلہ پر اتفاقاً گذرنے والوں کے لئے یہ ایک خوبصورت مقام ہو گا۔جہاں مہاجر احمد یہ خلافت کا مرکز بنایا جائے گا۔امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے جو اخبار نویسوں کے ہمراہ یہاں تشریف لائے تھے ، بیان کیا کہ ایک رؤیا جو انہوں نے کچھ دن ہوئے دیکھی تھی اور قرآن کریم کی ایک آیت نے ان کو اس اراضی کے انتخاب میں جسے حکومت نے ناقابل زراعت اور بنجر قرار دے دیا تھا مدد دی ہے۔انجمن کے دفاتر ، ہسپتال، سکول ، کالج اور سڑکیں تیار کرنے میں ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ کے ابتدائی خرچ کا تخمینہ کیا گیا ہے جو نہی صوبائی مجوز تعمیرات تعمیری نقشہ جات کو منظور کرے گا، تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔اخبار نویسوں کو اس مقام سے پندرہ میل کے فاصلہ پر ایک اور سات ہزار ایکڑ کا قطعہ اراضی بھی دکھایا گیا جو ایک صنعتی شہر کی آبادی کے لئے نہایت موزوں ہے۔" (پاکستان ٹائمز ۹۔نومبر ۱۹۴۸ء بحواله الفضل ۱۱- نومبر ۱۹۴۸ء صفحه (۲) | - مشہور اخبار ڈان نے ”دریائے چناب کے کنارے احمد یہ جماعت کی نئی بستی" کے عنوان ے لکھا۔لاہور۔۹۔نومبر۔دریائے چناب کے دائیں کنارے پر متصل چنیوٹ ایک نیا شہر جس کا نام ربوہ رکھا گیا ہے۔احمد یہ جماعت کے مہاجرین کی آبادی کے لئے جماعت احمدیہ تعمیر کر رہی ہے۔اس شہر کے آغاز میں دو ہزار مکانات بنائے جائیں گے۔صدر انجمن احمدیہ کو انجمن کے دفاتر ، سکول، ہسپتال ، کالج، سڑکیں وغیرہ بنانے کے لئے فی الحال ساڑھے تیرہ لاکھ روپے کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا۔جونہی محکمہ مجوز تعمیرات سے تعمیری نقشہ منظور ہو کر وصول ہو جائے گا تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا۔نقشهہ منظوری کیلئے پیش کر دیا گیا ہے۔" ( تاریخ احمدیت جلد ۱۳ صفحه ۲۰-۶۱) اخبار ”سفینہ" کے مولانا وقار انبالوی نے اس منصوبہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا۔گذشتہ اتوار کو امیر جماعت احمدیہ نے لاہور کے اخبار نویسوں کو اپنی نئی بستی