سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 100 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 100

بھی دیکھا جہاں ایک صنعتی بستی قائم کی جا سکتی ہے۔یہ قطعہ سرگودھا کی نہری نو آبادی سے قریباً آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے۔" سٹار کے چیف رپورٹر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔لاہور۔۸۔نومبر۔لاہور سے سو میل دور احمدی ایک شہر بنام ربوہ تعمیر کر رہے ہیں جو جماعت ہائے احمدیہ پاکستان کا مرکز ہو گا۔شہر کے نام ربوہ کو جس کے معنی ایک پہاڑی ٹیلے کے ہیں مذہبی اہمیت بھی حاصل ہے۔احمدیوں کے معروف عقیدے کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام نے صلیب پر جان نہیں دی بلکہ ابھی ان پر غشی اور بے ہوشی کی سی حالت طاری تھی کہ ان کے حواری انہیں صلیب سے اتار کر کشمیر کی طرف ہجرت کر گئے جہاں انہوں نے ایک پہاڑی ٹیلے پر پناہ لی۔احمدی قادیان سے اپنی حالیہ ہجرت کو بھی اسی ہجرت کے مشابہہ جان کر کہتے ہیں کہ انہوں نے قادیان سے نکالے جانے کے بعد اس بے آب و گیاہ غیر مزروعہ کو ہستانی علاقہ میں پناہ لی ہے جس کا نام ربوہ تجویز کیا گیا ہے۔یہ شہر جس کی تعمیر کے متعلق جماعت احمد یہ نہایت بلند اور حوصلہ افزا عزائم رکھتی ہے بارہ سو ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہو گا اور اس کی تعمیر پر اوسط اندازے کے مطابق کم از کم پچاس لاکھ روپیہ خرچہ آئے گا۔ربوہ میں دو کالج ہوں گے۔ایک لڑکیوں کا اور ایک لڑکوں کا۔اس کے علاوہ کئی اور سکول ایک بڑا ہسپتال ، شفاخانہ حیوانات ڈاک خانہ اور تار گھر اور ریلوے سٹیشن ہوگا۔بجلی مہیا کرنے کے انتظامات بھی کئے جا رہے ہیں بلکہ ایک جنریٹر Generator تو پہنچ بھی چکا ہے اور ابھی دو اور جنریٹر بہت جلد لائے جائیں گے۔جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اخبار نویسوں کی ایک پارٹی کو (جو ربوہ دیکھنے کیلئے گئی تھی بتایا کہ وہ اسے پاکستان میں ایک نمونے کا شہر بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو امریکی طرز پر تعمیر کیا جائے گا۔اس شہر میں صنعتی اداروں کے لئے بھی جگہ رکھی جائے گی جو شہری آبادی سے ذرا ہٹ کر ہو گی۔توقع ہے کہ شہر کی تعمیر ایک سال کے اندراندر ختم ہو جائے گی اور جماعت احمدیہ کا آئندہ سالانہ جلسہ جو اگلے دسمبر میں ہونے والا ہے بھی ربوہ ہی میں منعقد کیا جائے گا۔" پاکستان ٹائمز نے ” پاکستانی احمدیوں کا نیا مرکز " کے عنوان کے تحت لکھا۔دریائے چناب کے دائیں کنارے چنیوٹ کے قرب میں ایک نئے مثالی شہر کی