سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 95 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 95

۹۵ زیر وی (نامہ نگار خصوصی الفضل) اس نئی آبادی میں ہونے والی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب فرمانے کیلئے حضور مندرجہ ذیل بزرگان جماعت کے ساتھ لاہور سے ربوہ تشریف لائے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پر نسپل تعلیم الاسلام کالج ، شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمدیہ لاہور ، چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیر سٹرایٹ لاغ لاہور ، نواب محمد الدین صاحب ریٹائر ڈ ڈپٹی کمشنر حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد ایم۔اے ، ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب اور چوہدری اعجاز نصر اللہ خان صاحب۔" حضور نے صحافیوں سے بڑے خوشگوار ماحول میں بات چیت کرتے ہوئے فرمایا۔اس زمین کو حکومت بالکل نا قابل کاشت قرار دے چکی ہے۔گرمی کے متعلق ریسرچ والوں کا کہنا یہی ہے کہ یہاں گرمی بہت زیادہ پڑے گی لیکن ہم اس جنگل کو منگل بنانے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں۔ایک عرصے کی کوشش کے بعد پانی نکلا ہے لیکن وہ نمکین زیادہ ہے لہذا ابھی مزید کوشش کی جائے گی۔حضور نے " ربوہ " پر آباد کئے جانے والے شہر کا نقشہ سامنے رکھ کر بتایا کہ اس کی تعمیر امریکی طرز پر ہوگی جس میں ہسپتال ، کالج، سکول ویٹرنری ہسپتال ، ریلوے اسٹیشن ڈاک خانہ واٹر ورکس اور بجلی گھر کے علاوہ صنعتی اداروں کے لئے بھی ایک طرف جگہ چھوڑی گئی ہے۔حضور نے بتایا کہ ہم فی الحال پختہ بنیادوں پر کچی دیوار میں ہی کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور اس پر کم از کم خرچ کا اندازہ ۱۳ لاکھ روپیہ ہے۔اس کے بعد جب ہمیں اللہ تعالی پختہ مکانات تعمیر کرنے کا موقع دے گا تو مزید ۱۷-۱۸ لاکھ روپیہ خرچ ہو گا۔گویا تمہیں لاکھ کے قریب رقم تو اس پر سلسلہ ہی کو خرچ کرنی پڑے گی۔دوسرے لوگ جو اپنے مکانوں پر خرچ کریں گے وہ اس کے علاوہ ہو گا۔اس سے آپ لوگ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں یہ زمین کتنی مہنگی پڑے گی اور اس پر سلسلے کو کس قدر محنت اور مشقت کرنی پڑے گی۔حضور نے اس کے علاوہ حدود اربعہ اور مغربی پنجاب کی ہندوستان سے لگنے والی سرحدوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ جگہ صوبے کے عین وسط میں پڑتی ہے اور اگر اس محل وقوع میں خالی قطعات پر حکومت جدید نمونے کے صنعتی شہر آباد کرائے تو یہ شہر پاکستان کی ریڑھ