سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 63
۶۳ جائیں گے اس لئے جہاز آج نہیں آئے گا کل آئے گا اور پرسوں مجھے مار دیا جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا ایک طوفان آیا اور جہاز کو وہیں ٹھہرنا پڑا۔اور دوسرے دن وہ اس شہر میں پہنچ سکا اور تیسرے دن وہ مارے گئے۔" آپ کی بات سننے کے بعد اس شاگر دنے کہا آپ کیوں ضد کر رہے ہیں کیا آپ کو ہم پر رحم نہیں آتا۔اگر آپ زندہ رہیں گے تو ہمیں آپ سے بہت فوائد حاصل ہوں گے۔اگر آپ یہاں سے بھاگ جائیں اور کسی اور حکومت کے زیر سایہ رہنا شروع کر دیں تو کیا ہی اچھا ہو۔سقراط نے کہا میں اس ملک سے کس طرح بھاگ سکتا ہوں کیا میں عورتوں کا لباس پہن کر یہاں سے بھاگ جاؤں۔اگر میں عورتوں کا لباس پہن کر یہاں سے بھاگ جاؤں تو لوگ کہیں گے سقراط عورتوں کا لباس پہن کر بھاگ گیا۔یا پھر میں جانوروں کی کھال میں لپٹ کر یہاں سے بھاگ جاؤں۔کیا اس سے میری عزت ہوگی؟ فریتو نے کہا میرے آقا یہ ٹھیک ہے لیکن ہم ان چیزوں کے بغیر آپ کو نکالیں گے۔میں ایک مال دار آدمی ہوں اور فوجی افسر میرے تابع ہیں۔میں نے ان سے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ میری اس بارہ میں کیا مدد کریں گے اور آپ کو عزت کے ساتھ کسی اور ملک میں چھوڑ آئیں گے۔جن میں سے اس نے کریٹ کا نام بھی لیا۔سقراط نے کہا۔پھر تم جانتے ہو کیا ہو گا ایک بھاری رقم بطور تاوان ڈالی جائے گی۔اور جب ایسا ہو گا تو فریتو تم ہی بتاؤ کیا یہ اچھی بات ہوگی کہ میں اپنی جان بچانے کیلئے اپنے ایک شاگرد کو تباہ کروں۔فریتو نے کہا میرے آقا آپ اس کا خیال نہ کریں۔آپ کے شاگر د بہت سے ہیں اور یہ رقم ہم آپس میں بحصہ رسدی تقسیم کر لیں گے۔سقراط نے کہا ہاں یہ ٹھیک ہے۔لیکن جب حکومت کو پتہ چلا تو وہ سب کو قید کرلے گی۔فریتو نے کہا ہاں آقا۔مگروہ کچھ مدت کے بعد ہمیں چھوڑ دے گی۔سقراط نے کہا مگر کیا یہ اچھی بات ہوگی کہ میں اپنی جان بچانے کیلئے اپنے شاگردوں کو قید خانہ میں ڈلواؤں۔فریتو نے کہا۔مگر آقا آپ سوچئے آپ روحانیت کی تعلیم دیں گے اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف لائیں گے۔یہ کتنا بڑا کام ہے اس لئے اگر ہم قید میں بھی گئے تو کیا ہوا۔سقراط نے کہا یہ بات ٹھیک ہے اور شاید یہ بات سوچنے کے قابل ہو۔مگر فریتو میں جو ۸۵ سال کا ہو گیا ہوں اگر کسی ملک میں جاتے ہوئے رستہ میں مرجاؤں تو مجھے کون عظمند کہے گا کہ میں نے یونہی مفت میں تباہی ڈال دی۔پھر