سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 62 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 62

۶۲ صبح کس طرح آگئے۔فریتو نے کہا جیل کے افسر میرے دوست ہیں اس لئے اندر آنے کی مجھے اجازت مل گئی ہے۔میں آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا معلوم ہوتا ہے تم بہت دیر سے یہاں بیٹھے ہوئے ہو تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں۔فریتو نے کہا میں جب کمرے میں داخل ہوا تو آپ سوئے ہوئے تھے اور آپ کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی اس لئے میں نے آپ کو جگایا نہیں بلکہ آپ کے پاس بیٹھ کر آپ کے چہرے کو دیکھتا رہا۔اس بات کا مجھ پر گہرا اثر ہوا کہ وہ شخص جس کی موت کا حکم سنایا گیا ہے کسی اطمینان اور سکون سے سویا ہوا ہے۔سقراط نے کہا میاں ! کیا خد اتعالیٰ کی مرضی کو کوئی انسان دور کر سکتا ہے۔فریتو نے کہا نہیں۔سقراط نے کہا کیا تم اس کی مرضی پر خوش نہیں۔فریتو نے کہا ہاں ہم اس کی مرضی پر خوش ہیں۔سقراط نے کہا جب خدا نے میرے لئے موت مقدر کی ہے اور میں اس کی رضا پر راضی ہوں تو پھر اس پر بے چینی کی کیا وجہ۔مجھے تو خوش ہونا چاہئے کہ میرے خدا کی یہ مرضی ہے کہ وہ مجھے موت دے۔فریتو تم بتاؤ کہ اس وقت تم مجھے کیا کہنے آئے تھے۔فریتو نے جواب دیا میرے آقا میں آپ کو ایک بری خبر دینے آیا تھا کہ اس جہاز کی آمد کے دوسرے دن آپ کو زہر پلائے جانے کا فیصلہ ہے۔وہ گو ابھی تک پہنچاتو نہیں لیکن خیال ہے کہ آج شام کو پہنچ جائے گا۔اس لئے کل آپ کو مار دیا جائے گا۔اس پر سقراط ہنس پڑے اور کہا۔میرا تو یہ خیال نہیں کہ وہ جہاز آج پہنچے وہ کل یہاں پہنچے گا۔فریتو نے کہا وہ جہاز فلاں جگہ پر لگا ہوا ہے اور ایک آدمی خشکی کے ذریعہ یہاں آیا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ وہ جہاز آج شام تک یہاں پہنچ جائے گا۔کل کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔سقراط نے کہا فریتو بے شک اس شخص نے یہ بتایا ہے کہ جہاز آج شام تک پہنچ جائے گا لیکن جب خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ جہاز کل یہاں پہنچے گا تو ویسا ہی ہو گا۔فریتو نے کہا۔میرے آقا آپ کو کیسے علم ہوا کہ وہ جہاز کل یہاں پہنچے گا۔سقراط نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ ایک خوبصورت عورت میرے پاس آئی ہے اس نے میرا نام لیا اور کہا۔تیار ہو جاؤ پر سوں جنت کے دروازے تمہارے لئے کھول دیئے جائیں گے۔فریتو کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ جہاز آج شام کو یہاں پہنچ جائے گا۔اگر جہاز آج یہاں پہنچ جائے تو کیا کل مجھے سزا دے دی جائے گی؟ لیکن فرشتے نے مجھے کہا ہے کہ پرسوں تمہارے لئے جنت کے دروازے کھولے