سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 40 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 40

۴۰ انسان کا دل بیٹھ جاتا ہے اور اس کے قدم لڑکھڑا جاتے ہیں۔صرف جماعت کے کمزور لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے اور بعض دوسرے مصالح کی وجہ سے میں وہ باتیں پر دہ اختفاء میں رکھتا ہوں۔ورنہ ان دنوں میں بعض اوقات ایسے محسوس کرتا ہوں جیسے کسی عظیم الشان محل کی دیواریں نکل جائیں اور اس کی چھت کے سہارے کے لئے ایک سر کنڈا کھڑا کر دیا جائے تو جو حال اس سرکنڈے کا ہو سکتا ہے یہی حال بسا اوقات ان دنوں میں اپنا محسوس کرتا ہوں۔وہ بوجھ جو اس وقت مجھ پر پڑ رہا ہے اور وہ خطرات جو جماعت کے مستقبل کے متعلق مجھے نظر آرہے ہیں وہ ایسے ہیں کہ ان کا اظہار ہی مشکل ہے اور ان کا اٹھانا بھی کسی انسان کی طاقت میں نہیں۔محض اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے میں اس بوجھ کو اٹھائے ہوئے ہوں ور نہ کوئی انسان ایسا نہیں ہو سکتا جس کے کندھے اتنے مضبوط ہوں کہ وہ اس بوجھ کو سہار سکیں اور ان تفکرات کا مقابلہ کر سکیں۔ہماری جماعت کے حصے میں تو صرف چندے ہی ہیں تفکرات میں اس کا کوئی حصہ نہیں بلکہ تفکرات ان تک پہنچتے ہی نہیں۔جیسے خطرہ کے وقت ماں اپنے بچے کو گود میں سلا لیتی ہے اور سارا بوجھ خود اٹھا لیتی ہے۔ایسی ہی حالت اس وقت میری ہے کہ ان خطرات سے جو اس وقت مجھے نظر آرہے ہیں جماعت کو آگاہ نہیں کر سکتا اور سارا بوجھ اپنے پر لے لیتا ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے کام تو بہر حال خدا تعالیٰ نے ہی سر انجام دینے ہیں جماعت کے لوگوں کو کیوں پریشان کروں۔اللہ تعالیٰ نے جس مقام پر مجھے کھڑا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو رتبہ مجھے عطا کیا گیا ہے اس کے لحاظ سے سب سے پہلا اور آخری ذمہ دار میں ہی ہوں اور جماعت کے بوجھ اُٹھانے کا حق میرا ہی ہے۔" (الفضل ۲۱۔جولائی ۱۹۴۷ء) آنے والے پر مصائب حالات میں ایمان کی حفاظت کے لئے غیر مشروط مکمل اطاعت کی تلقین کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔ہمارے سپرد ایک بہت بڑا کام ہے اور وہ کام کبھی سرانجام نہیں دیا جا سکتا جب تک ہر شخص اپنی جان اس راہ میں لڑا نہ دے۔پس تم میں سے ہر شخص خواہ دنیا کا کوئی کام کر رہا ہو اگر وہ اپنا سارا زور اس غرض کے لئے صرف نہیں کر دیتا ، اگر خلیفہ وقت کے حکم پر ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار نہیں رہتا، اگر اطاعت و فرمانبرداری اور قربانی