سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 441
شَاءَ اللہ اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہیں اور پیدائش مخلوق کا ایک ہی مقصد ان کے سامنے ہے کہ وہ اپنی اولادوں کی راحت اور آرام اور ترقی کے سامان پیدا کریں۔وہ اس امر میں غلطی کر سکتے ہیں کہ اولاد کو راحت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔ممکن ہے کوئی علم میں اس کی راحت سمجھتا ہو اور کوئی جہالت میں اور کوئی محنت میں ان کی راحت سمجھتا ہو اور کوئی آرام طلبی میں لیکن اپنے اپنے نقطۂ نگاہ کے ماتحت جس جس چیز کو وہ راحت اور آرام کا سبب سمجھتے ہیں اس چیز کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی اولادوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ایک تعلیم یافتہ ماں اگر اپنے بچے کی بہتری اس میں خیال کرتی ہے کہ اس کی بیماری کے ایام میں ڈاکٹر کی کڑوی کڑوی دوائیں اس کو پلائے تو وہ تمہیں اپنے بچے کی لاتیں اپنی لاتوں میں دبائے ہوئے اور اس کا سر اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے چمچے سے اس کے منہ میں دوائی ڈالتی ہوئی نظر آئے گی۔اس کے بچے کے آنسو اس کی آنکھوں میں آنسو لا رہے ہونگے اور اس کی تکلیف اس کے دل میں درد پیدا کر رہی ہوگی لیکن وہ اپنے اس فعل سے باز نہیں آئے گی کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس کے بچہ کی راحت اس دوا کے پلانے میں ہے۔اسی طرح ایک جاہل عورت جو اس عارضی تکلیف کو بیماری کی مستقل تکلیف سے زیادہ سمجھتی ہے۔یا جس کا یہ خیال ہے کہ صحت تو خدا ہی کی طرف ، آتی ہے دوائیاں تو صرف ایک بہانہ ہے۔قضاء و قدر جس طرح جاری ہونی ہے جاری ہو کر رہے گی تم اسے دیکھو گے کہ اپنے خاوند کی لائی ہوئی دوائی کو وہ اپنے ہاتھوں سے پرے پھینک دے گی اور اپنے بچے کو اپنے گلے سے لپٹا کر پیار کرتے ہوئے کہے گی کہ میرے پیارے بچے تو رو نہیں میں تجھے دوائی نہیں پلاتی۔یہاں عمل مختلف ہیں مگر جذبہ ایک ہے۔وہ تعلیم یافتہ عورت دوائی پلاتے وقت اور وہ جاہل عورت دوائی پھینکتے وقت ایک ہی روح سے متاثر ہو رہی تھیں۔ایک دوائی کے پلانے میں اپنے بچے کا آرام دیکھتی تھی تو دوسری دوائی کے پھینکنے میں اس کی راحت پاتی تھی۔پس تم اس قسم کے فرق تو ضرور دیکھو گے لیکن جذبے کا فرق کہیں نظر نہ آئے گا۔کالے اور گورے مشرقی اور مغربی ، جاہل اور عالم ، مذہبی اور بد مذہبی ہر ایک قسم کے انسان کو اس جذبے سے متاثر پاؤ گے اور ان کو اسی جذبے کے ماتحت اپنی زندگیاں