سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 430
۴۳۰ انچاس کوٹ اور موجود ہیں۔اسی طرح ہماری جماعت اگر روحانی طور پر نهایت مالدار بن جائے تو اسے کسی شخص کی موت پر کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہو سکتی۔تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مالدار بنانے کی کوشش کرو۔تم میں سینکڑوں قیمہ ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں محدث ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں علم اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں دنیا کے ہر علم کے ماہر ہونے چاہئیں تاکہ جب ان سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہر فن کے ۴۹۹ عالم موجود ہوں اور تمہاری توجہ اس طرف پھرنے ہی نہ پائے کہ اب کیا ہو گا۔جو چیز ہر جگہ اور ہر زمانہ میں مل سکتی ہو اس کے کسی حصہ کے ضائع ہونے پر انسان کو صدمہ نہیں ہو تا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسی سینکڑوں چیزیں میرے پاس موجود ہیں۔اسی طرح اگر ہم میں سے ہر شخص علوم و فنون کا ماہر ہو تو کسی کو خیال بھی نہیں آ سکتا کہ فلاں عالم تو مرگیا اب کیا ہو گا یہ خیال اسی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجودوں کو نادر بننے دیتے ہیں۔اور ان جیسے سینکڑوں نہیں ہزاروں وجود اور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اگر ان کے نادر ہونے کا احساس جاتا رہے جس کی سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی کہ ان کے قائم مقام ہزاروں کی تعداد میں ہمارے اندر موجود ہوں تو کبھی بھی جماعت کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں شخص تو فوت ہو گیا اب کیا ہو گا۔دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ تم نیکی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اگر ہم قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق یہ اشتیاق رکھتے کہ ہم دوسروں سے آگے بڑھ کر رہیں اگر ہم میں سے ہر شخص استباق کی روح کو اپنے اندر قائم رکھتا تو آج ہم میں سے ہر شخص بڑے سے بڑا محدث ہو تا‘ بڑے سے بڑا مفسر قرآن ہو تا، بڑے سے بڑا عالم دین ہو تا اور کسی کے دل میں یہ احساس تک پیدا نہ ہو تاکہ اب جماعت کا کیا بنے گا۔جب کثرت سے علماء قوم میں موجود ہوں، جب کثرت سے فقہاء قوم میں موجود ہوں تو کسی کی موت کسی کو متزلزل نہیں کر سکتی بلکہ کسی ایک شخص کی موت کی حیثیت ایسی ہی رہ جاتی ہے جیسے کسی کی جھولی میں بہت سے