سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 391 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 391

۳۹۱ نہ بھیجوایا جائے کیونکہ ممکن ہے کہ ان کے قائم مقاموں کے آنے میں دقت پیدا ہو اور قادیان کی احمدی آبادی کم ہو جائے۔اس خطرہ کو آپ کبھی نہ بھولیں اور ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں۔ہمیشہ پہلے باہر سے آنے والوں کو اند رلایا کریں اور پھر بعض دو سروں کو باہر جانے کی اجازت دیا کریں سوائے ان پانچ کے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔۵:۔چونکہ اب ملک میں ہندی کا زور ہو گا اس لئے آپ لوگ بھی دیوناگری رسم الخط کے سیکھنے کی کوشش کریں اور ہندی زبان میں لٹریچر کی اشاعت کی طرف خاص توجہ دیں۔4 :۔جب تک باہر سے واقفین کے آنے کی پوری آزادی نہ ہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ طالب علموں کو مولوی بشیر احمد صاحب اپنے ساتھ رکھ کر دہلی میں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کو ساتھ رکھ کر مولوی محمد سلیم صاحب کلکتہ میں پڑھائیں اور کچھ طالب علموں کو ساتھ رکھ کر مولوی عبد المالک صاحب حیدر آباد میں پڑھائیں اور پھر ان کو اردگرد کے علاقوں میں پھیلاتے چلے جائیں لیکن یہ مد نظر رکھا جائے کہ ہندوستان کے چندوں سے ہندوستان کا خرچ چل سکے اور قادیان کی آبادی کا خرچ بھی وہیں سے نکل سکے۔۷:۔قادیان میں احمدیوں کے آنے اور قادیان کے احمدیوں کو ہندوستان یونین میں جانے کے متعلق آزادی کرانے کے لئے آپ لوگ باقاعدہ کوشش کریں اور کوشش کرتے چلے جائیں تا کہ قادیان میں پھر زائرین آنے لگ جائیں اور قادیان کی نہر ایک کھڑے پانی کے جوہر کی سی شکل اختیار نہ کرلے۔آبادی کی زندگی کے لئے عورتوں اور بچوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔آپ لوگ متواتر حکومت کے ساتھ خط و کتابت کریں اور کوشش کریں کہ ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ قادیان کے ساکنان کے بیوی بچے حفاظت کے ساتھ رہ سکیں۔: جو نسی قادیان میں کچھ ایسے نوجوان آجا ئیں جن کا تعلیم پانے کا زمانہ ہو تو " فورا ایک سکول کی بنیاد رکھ دی جائے جس کے متعلق کوشش ہو کہ وہ آہستہ آہستہ بڑھتا چلا جائے۔۱۰:۔ہندوستان یونین کی صدرانجمن احمدیہ نے ایک دن کے لئے بھی ہندوستان