سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 366
اسلام کی تبلیغ کرنے کا موقع مل گیا۔الحمد للہ ایک اثر اس فتنے کا یہ ہوا کہ بنگالی نمائندوں نے اصل حقیقت کو بھانپ لیا اور انہیں علم ہو گیا کہ اہل غرض افراد مذہب کی آڑ میں سیاسی چالیں چل رہے ہیں۔چنانچہ بنگال کے اخبارات میں سے سوائے ایک دو کے باقی سب نے یہی لکھا کہ ہم اس گند کو جو مغربی پاکستان میں پھیلایا جارہا ہے ہرگز بنگال میں نہیں آنے دیں گے۔کراچی کے فساد کا ایک اور اثر یہ ہوا کہ ملک کے شریف اور سنجیدہ لیڈروں نے ان لوگوں کو سمجھانا شروع کیا جو کسی نہ کسی رنگ میں اس فتنہ سے متاثر ہو رہے تھے اور انہیں اس کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا۔پھر جب جماعت اسلامی نے جو حکومت کی کھلی مخالف ہے ہماری مخالفت میں آگے آنا شروع کیا تو سیاسی لیڈروں کی بھی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے محسوس کیا جماعت احمدیہ کے مخالف دراصل اس آڑ میں حکومت نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔چنانچہ جلد ہی اس کا ثبوت بھی مل گیا اور وہی لوگ جو شروع میں ہماری مخالفت کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ ہمیں سیاست سے یا حکومت کی مخالفت سے کوئی واسطہ ہی نہیں۔انہوں نے برملا حکومت کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔۔۔۔۔۔(الفضل یکم جنوری ۱۹۵۳ء صفحه ۲) ee شریروں پر پڑے ان کے شرارے کہاں مرتے تھے تو نے ہی مارے