سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 354 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 354

۳۵۴ پیش آمدہ حالات سے مطلع رکھا جاتا اور بیرونی مشنوں کی حوصلہ افزا خبروں سے جماعت کے حو صلے بلند رکھنے کی کوشش کی جاتی۔صدرانجمن احمدیہ کے بعض مربی اور کارکن مسلسل راتوں کو جاگ کر بہت ہی کم ذرائع اور وسائل کے باوجود ایسے خطوط کو سائیکلو سٹائل کرنے اور انہیں لفافوں میں ڈال کر ان پر پتے لکھ کر پوسٹ کرنے کے فرائض انجام دیتے رہے۔رات کی اس پر مشقت اور تھکا دینے والی ڈیوٹی کے باوجود اس وقت کے حالات کے مطابق ان کارکنوں کو بسا اوقات بغیر دودھ کے چائے یا صرف قہوہ پی کر وقت گزارنا پڑتا تھا۔تحقیقاتی عدالت جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے فاروق کی اشاعت ہنگامی حالات میں ہوئی تھی۔حضور نے مکرم مولانا محمد شفیع صاحب اشرف کو اس کا ایڈیٹر مقرر فرمایا تھا۔المصلح کراچی کی اشاعت تک یہ اخبار با ہم رابطہ کا اہم ذریعہ تھا۔ان دنوں میں حضور کی طرف سے مختلف پیغامات جاری کئے گئے جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو جماعت کی مشکلات کا بخوبی اندازہ تھا اور آپ اپنی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ہر ممکن طریق سے ان مشکلات کے ازالہ کے لئے اسی طرح مصروف و مشغول تھے جس طرح ایک پیار کرنے والا باپ اپنی اولاد کے لئے ہو سکتا ہے بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر اور کہیں زیادہ۔فسادات کی روک تھام کے لئے وفاقی حکومت کی آخری وقت پر مداخلت کی وجہ سے (جبکہ بہت زیادہ نقصان ہو چکا تھا) لاہور میں مارشل لا لگا دیا گیا۔جس کے سربراہ جنرل اعظم تھے۔قیام امن کی اس ذمہ دارانہ کوشش سے چند گھنٹوں میں کشت و خون لوٹ مار اور غنڈا گردی تھم گئی اور حالات قابو میں آنے لگے۔اس امر سے بھی واضح ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب کے بعض افسران فسادات کو دور کرنے کی بجائے انہیں ہوا دینے میں مصروف تھے۔ان فسادات کے عوامل اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لئے حکومت پنجاب نے ایک تحقیقاتی عدالت قائم کی۔اس عدالت کے صدر جناب چیف جسٹس محمد منیر اور دوسرے ممبر جناب جسٹس محمد رستم کیانی (ایم۔آر کیانی تھے۔ان دونوں جوں نے نہایت محنت اور توجہ سے یکم جولائی ۱۹۵۳ء سے ۲۸۔فروری ۱۹۵۴ء تک اپنی کار روائی جاری رکھی۔اس عدالت کے سامنے حکومت پنجاب ، مسلم لیگ، مجلس عمل ، جماعت احرار ، جماعت اسلامی وغیرہ کے مشہور وکلاء پیش ہوئے۔جماعت کی طرف سے محترم جناب شیخ بشیر احمد صاحب محترم جناب عبد الرحمان صاحب خادم پیش ہوئے اور نہایت عمدگی سے جماعت کا موقف پیش کیا۔مکرم خادم صاحب کی وسعت معلومات کی تعریف فاضل جوں نے اپنی رپورٹ میں بھی کی ہے۔