سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 328
٣٢٨ اپنے اس نہایت مؤثر خطاب کے آخر میں آپ نے فرمایا :۔" آج مسلمانوں کے مختلف فرقے نہایت معمولی معمولی مسائل پر باہم دست و گریباں ہیں حالانکہ ان کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم محمد مصطفی میں تیار کی ذات اور اسلام پر ہونے والے حملوں کا دفاع کسی طرح کریں۔آپ نے کہا کہ مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اور مختلف فرقے یورپ اور دو سرے ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے مشن کھولیں تو یقیناً چند ہی سالوں کے اندراندریورپ کی کثیر آبادی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقہ غلامی میں آسکتی ہے۔آپ نے کہا اگر آج مسلمانوں نے بھی اپنی غفلتوں اور مستیوں کو ترک نہ کیا اور اسلام کی اصل ضرورت کو سمجھ کر میدان میں نہ آئے تو وہ قیامت کے روز شافع محشر کو اپنا منہ نہ دکھا سکیں گے۔( تاریخ احمدیت جلد ۱۸ صفحه ۳۱) مسلمانوں میں باہم اتحاد کی یہ مؤثر و بر وقت تحریک اس وقت کے پرئیس نے نمایاں طور پر شائع کی۔اس نصیحت کی اہمیت و ضرورت میں بہت لمبا عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی بلکہ یہ کہنا بھی کسی طرح غلط نہ ہو گا کہ اس نصیحت پر کان نہ دھرنے کی وجہ سے نا قابل بیان نقصان ہو چکا ہے اور افتراق و انشقاق کے عفریت بڑے خوفناک انداز سے ہر طرف سر اٹھائے ہوئے ہیں اور یہ امر بلا شائبه شک و شبہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو جب بھی استحکام حاصل ہو گا اسی نسخہ کیمیا پر عمل کرنے سے ہی ہوگا۔وَنَرْجُو مِنَ اللَّهِ خَيْرًا