سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 323
۳۲۳ سانپ اور بچھو کی طرح نظر آنے لگ گئے۔اگر خدانخواستہ پاکستان میں گڑ بڑ واقع ہوئی اور اس کے نتیجہ میں ہندوستانی فوجیں ملک میں داخل ہو ئیں تو وہ اس ذہنیت سے نہیں آئیں گی جو ان کی تقسیم ملک سے پہلے تھی اس وقت تعصب اتنا زیادہ نہیں تھا جتنا اب ہے۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ پاکستان حاصل کر کے مسلمانوں نے اپنا ایک جائز حق لیا ہے کوئی جرم نہیں کیا لیکن سوال یہ نہیں کہ ہم کیا سمجھتے ہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جس سے ہمارا معاملہ ہے وہ کیا سمجھتا ہے۔اس وقت ہندوؤں کے ذہن کو اس طرح بگاڑ دیا گیا ہے اور پاکستان کے خلاف ان کو اس قدر مشتعل کر دیا گیا ہے کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا حق نہیں لیا ان کا حق لیا ہے۔۔۔الفضل ۲۶۔اکتوبر ۱۹۵۴ء صفحه ۳-۴) اس بیان سے حضور کی سیرت کا یہ پہلو بھی نمایاں ہوتا ہے کہ آپ ہر طبقہ فکر سے تعلقات رکھتے اور بر ملاحق بات کہنے اور منوانے کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔خان عبد الغفار خان صاحب اپنے مخصوص رجحانات و خیالات کی وجہ سے سرحدی گاندھی کے نام سے مشہور تھے اور تاریخ پاکستان کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ خان صاحب موصوف کو قائد اعظم نے قومی تحریک میں شامل کرنے کی پوری کوشش کی تھی مگر خان صاحب موصوف اپنے موقف سے دستبردار ہونے کو تیار نہ ہوئے۔مگر حضور نے بغیر کسی دلیل یا حجت بازی کے سادہ طریق پر اس رنگ میں گفتگو فرمائی کہ انہیں بچی بات ماننے اور اس کا اعتراف کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔پاکستان بن جانے اور غیر ملکی حکومت سے آزادی حاصل مخلص پاکستانیوں کی ذمہ داریاں کرلینے کے بعد حالات میں جو تبدیلی آئی اس کے پیش نظر پاکستانیوں کی بالعموم اور افراد جماعت کی بالخصوص ذمہ داریوں میں جو اضافہ ہوا اس کی طرف " نہایت مؤثر رنگ میں توجہ دلاتے ہوئے اور اسے جہاد قرار دیتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔دوسری بات جو میں جماعت سے کہنا چاہتا ہوں وہ بھی ایسی ہے کہ اب اس کے متعلق دو ٹوک فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔ایک زمانہ ایسا تھا کہ غیر قوم ہم پر حاکم تھی اور وہ غیر قوم امن پسند تھی، مذہبی معاملات میں وہ کسی قسم کا دخل نہیں دیتی تھی۔اس کے متعلق شریعت کا حکم یہی تھا کہ اس کے ساتھ جہاد جائز نہیں اور چونکہ حکومت کی باگ ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو غیر مسلم تھے اور جن کا براہ راست اسلامی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا اس لئے لازمی طور پر ان کے توسط سے بھی جہاد کا کوئی پہلو نہیں نکلتا تھا