سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 294
۲۹۴ گے۔پچاس ہزار سے اوپر کے جو شہر ہوں ان کے لئے سوختنی لکڑی سے رکھ بنانا صوبہ داری حکومت کا فرض ہو۔ان شہروں کے لئے شہر کے ایسی طرف زمین حاصل کر کے جس طرف شہر کے بڑھاؤ کا رخ نہ ہو دو تین میل فاصلہ پر سوختنی لکڑی کی رکھیں بنادینی چاہئیں جہاں سے شہر میں لکڑی سپلائی ہوتی رہے۔پچاس ہزار آدمی کی آبادی یا اس سے زیادہ کے شہروں کے لئے جتنی سوختنی لکڑی کی ضرورت ہوتی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ ایک اقتصادی یونٹ ہوگا اور حکومت کو اس انتظام میں کوئی مالی نقصان نہیں ہو گا بلکہ نفع ہی ہو گا۔اس انتظام کے علاوہ مرکزی حکومت کے انتظام کے ماتحت بعض بڑے بڑے رکھ بنانے چاہئیں تا ضرورت کے موقع پر ملک کو سوختنی لکڑی مہیا کی جاسکے اور اگر کسی وقت کوئلہ میں کمی ہو تو کار خانے اس لکڑی کے ذریعہ سے چلائے جا سکیں۔دو سرے ڈسٹر کٹو ڈسٹیلیشن (Distructive Distellation) کے ذریعہ بہت سارے کیمیاوی اجزاء ملک کے استعمال اور دساور کیلئے پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ڈسٹر کٹو ڈسٹیلیشن زیادہ تر سخت لکڑی سے کیا جاتا ہے جیسے کیکر ، شیشم ، چھلاہی وغیرہ۔اس ذریعہ سے سپرٹ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے جو جنگی ضرورتوں کے بھی کام آئے گا اور کئی کیمیاوی کارخانوں میں استعمال ہو گا اس کے علاوہ ایسی ٹون اسٹک ایسڈ اور فار سبلڈی ہائیڈ بھی اس سے بنائے جا سکتے ہیں۔اول الذکر بارود کے بنانے میں کام آتا ہے۔اور آخر الذکر پلاسٹک کے بنانے میں کام آتا ہے۔شیشم اور کیکر کے درخت بہت حد تک تعمیری ضرورتوں کو بھی پورا کر سکتے ہیں۔آج کل تعمیری ضرورتوں کے لئے زیادہ تر دیو دار کی قسم کی لکڑیاں استعمال ہوتی ہیں جیسے دیار کیل ، پڑمل اور چیل یہ لکڑیاں پہاڑوں پر ہوتی ہیں۔پہلے کشمیر، چنبہ اور مہنڈی سے یہ مہیا کی جاتی تھیں۔ریلوں کی لا ئنین بنانے میں یہی لکڑی کام دیتی تھی کیونکہ ریل پر بچھائی جانے والی شہتیریاں ہر وقت ننگی رہتی ہیں اور ان پر بارش کا پانی پڑتا ہے۔عام لکڑی زیادہ دیر تک گیلی رہنے سے خراب ہو جاتی ہے دیار کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ گیلے ہونے سے خراب نہیں ہوتی۔ان لکڑیوں کو بعض ادویہ سے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ ان کو کیڑا نہ لگ سکے اور پھر ریل کی پٹری پر استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح اچھی عمارتوں کی تعمیر میں بھی یہ کام آتی ہے۔یہ لکڑی چنبہ اور مہنڈی کے ہندوستان میں چلے جانے کی وجہ سے اور کشمیر کی