سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 280 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 280

۲۸۰ گا۔اور اگر اس وقت نہیں بتائیں گے اور ان کی مدد سے بجٹ پاس کرنے کے بعد ان کی خلاف مرضی استعفاء دے دیں گے تو گویا آپ نے ان سے فریب کیا کہ ان کی مدد سے بحبٹ پاس کر لیا اور پھر ان کی خلاف مرضی استعفاء دے دیا۔اس لئے میری تو یہی رائے ہے کہ اس وقت صرف یہ طے ہونا چاہئے کہ اس مرحلے پر آپ استعفاء دیں یا نہ دیں۔میں اپنی رائے بتا چکا ہوں کہ آپ کو استعفاء دینا چاہئے۔آگے جیسے آپ مناسب سمجھیں۔اس کے بعد جناب نواب مظفر علی خان صاحب چند منٹ ٹھہر کر تشریف لے گئے۔جناب ملک صاحب نے اسی سہ پہر کے لئے پارٹی کا اجلاس اپنے دولت کدہ پر طلب فرمایا اور خود گور نر صاحب Sir Evans Jen ins) کو ملنے تشریف لے گئے۔گور نر سے کہا۔وزیر اعظم اٹیلے کے اعلان کے پیش نظر میں سوچ بچار کے بعد اس رائے کی طرف مائل ہوں کہ مجھے اس مرحلے پر استعفاء دے دینا چاہئے لیکن پختہ فیصلہ کرنے سے پہلے میں نے آج سہ پہر پارٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔اگر پارٹی کے ساتھ گفتگو کے بعد میں اس رائے پر قائم رہا تو میں آج شام پھر آپ سے ملنے کے لئے آؤں گا اور اپنے فیصلے سے آپ کو مطلع کر دوں گا۔گورنہ صاحب نے فرمایا۔یہ امر خالصتہ آپ کی مرضی پر موقوف ہے۔حالات کے پیش نظر میں آپ کی رائے پر کوئی اثر ڈالنا نہیں چاہتا لیکن کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ آپ نے خود بخود یہ رائے قائم کی ہے یا کسی طرف سے آپ کو کوئی تحریک ہوئی ہے۔اس پر ملک صاحب نے فرمایا کہ فیصلہ تو میرا جو کچھ ہو گا اپنا ہی ہو گا لیکن وزیر اعظم اٹیلے کے اعلان کے نتیجے میں توجہ مجھے ظفر اللہ خان نے ، ائی ہے۔پارٹی کا اجلاس تین بجے سہ پہر سے چھ سات بجے تک رہا۔میں تو اس میں شامل نہیں تھا لیکن میرے کمرے تک بعض دفعہ آواز پہنچتی تھی جس سے اندازہ ہو تا تھا کہ بحث گرم ہو رہی ہے۔شام کے کھانے پر جناب ملک صاحب نے بتایا کہ پارٹی کے غیر مسلم اراکین میرے فیصلے پر بہت آزردہ تھے اور اپنے اپنے زاویہ نگاہ سے مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ میرا مجوزہ اقدام درست نہیں لیکن میرا موقف یہی رہا کہ برطانوی وزیر اعظم کے اعلان کے بعد میرے لئے اور کوئی رستہ کھلا نہیں رہا۔کھانے کے بعد جناب ملک صاحب گور نر صاحب سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے اور