سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 277
۲۷۷ جلد تبدیلی ہو رہی تھی پارٹی کی رکنیت میں بتدریج مسلم عصر کم ہو رہا تھا اور غیر مسلم عنصر بڑھ رہا تھا صوبے میں مسلم لیگ کی تنظیم مضبوط ہو رہی تھی اور لیگ کارسوخ بڑھتا جا رہا تھا یہاں تک کہ لیگ نے عدم تعاون کے ذریعے یونینسٹ پارٹی کو حکومت سے برطرف کرنے کی کوشش کی۔اس کوشش میں تو لیگ بظاہر کامیاب نہ ہوئی لیکن لیگ کی وقعت رائے عامہ میں بہت بڑھ گئی اور شہری حلقوں میں خصوصا لیگ کا اثر ہر جگہ پھیل گیا۔جناب قائد اعظم نے اس سے قبل ہی جناب ملک صاحب پر زور دینا شروع کیا تھا کہ وہ لیگ میں شامل ہو کر اور لیگ سے مل کر کام کریں لیکن وہ ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔انہوں نے سکندر جناح پیکٹ کی آڑ لینے کی کوشش کی لیکن جناب قائد اعظم نے اسے ٹھکرا دیا۔جناب ملک صاحب کا موقف تھا کہ پاکستان کا مطالبہ مرکز سے متعلق ہے اور ہم سو فیصدی اس کی تائید میں ہیں لیکن صوبے کے حالات کے پیش نظر یونینسٹ پارٹی جو ایک غیر فرقہ وارانہ پارٹی ہے اور جس کی تشکیل اقتصادی مقاصد کی بناء پر کی گئی تھی اور انہیں مقاصد کے حصول کے لئے وہ کوشاں رہی ہے ایک موزوں پارٹی ہے اور مسلم حقوق کا بخوبی تحفظ کر سکتی ہے۔اور کرتی ہے۔کشمکش کے دوران میں برطانوی وزیر اعظم کا ۲۰۔فروری ۱۹۴۷ء کا اعلان ہو گیا جس کا ایک پہلو یہ تھا کہ پنجاب کے صوبے میں مرکزی اختیارات بھی صوبائی حکومت کو تفویض ہوں۔اس وقت تک یونینسٹ پارٹی میں رکنیت کی کثرت غیر مسلم اراکین کو حاصل ہو چکی تھی۔اگر اب بھی یہی پارٹی برسراقتدار رہتی تو مسلم لیگ کے رستے میں اور پاکستان کے قیام کے رستے میں ایک بہت بڑی روک پیدا ہو جاتی۔میں جناب ملک سر خضر حیات خان صاحب کو عرصے سے جانتا تھا اور میرے ان کے درمیان دوستانہ مراسم تھے۔جب تک میں حکومت ہند کار کن رہا مجھے گرمیوں کے موسم میں جناب ملک صاحب کے ساتھ شملے میں ملاقات کے مواقع میسر آتے رہتے تھے۔جب میں حکومت سے علیحدہ ہو کر عدالت میں چلا گیا تو ہمارے ملاقات کے مواقع کم ہو گئے اور میں نے سیاسی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ لینا کم کر دیا گو قومی معاملات میں میری دلچسپی میں کوئی کمی نہ آئی۔اب اس مرحلے پر بڑی شدت سے میری طبیعت اس طرف مائل ہوئی کہ مجھے اسی