سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 19 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 19

19 رہی تھی مگر کوئی معین تجویز ذہن میں نہیں آئی تھی کہ اس عظیم احسان پر اظہار تشکر کا طریق کیا ہو۔حضرت چوہدری صاحب فرماتے ہیں۔” جب میں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی خدمت میں عرض کیا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کی کوئی تحریک حضور کی اجازت کے بغیر نہیں ہونی چاہئے جس میں جماعت مخاطب ہو تو حضور نے میری درخواست قبول کرتے ہوئے مجھے اس امر کی اجازت دی کہ میں اسے جماعت کے سامنے پیش کروں۔" اس تحریک کے مالی پہلو کے متعلق تحریک کرتے ہوئے حضرت چوہدری صاحب نے فرمایا۔اب میں مختصر ا پہلے حصہ کے متعلق تحریک کرتا ہوں کہ جن احباب کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ ایک ہزار کی رقم اپنے ذمہ لیں۔اور مارچ ۱۹۳۹ء تک یعنی پندرہ ماہ کے عرصہ میں بھجوا دیں۔تحریک کا دوسرا حصہ عام ہے اور وہ دو لاکھ روپے کی فراہمی سے تعلق رکھتا ہے۔اس وقت میں اس کو بھی پیش کرتا ہوں تاکہ احباب جماعت مارچ ۱۹۳۹ء تک اس رنگ میں جو عشقیہ ہے اور جس میں وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے عظیم الشان نعمت انہیں دی ہے۔اس پر ۱۹۳۹ء کے مارچ میں پورے پچیس سال ہو جائیں گے اپنی طرف سے اللہ تعالیٰ کے حضور شکر کے طور پر دو لاکھ روپے کی رقم پیش کریں۔" (الفضل ۲۷۔دسمبر۷ ۱۹۳ء) اس موقع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت چوہدری صاحب فرماتے ہیں۔یہ عجیب اتفاق ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ آئندہ سال ہمیں وہ تین نوع کی خوشیوں کا موقع عطا فرمانے والا ہے۔پہلی خوشی تو یہ ہے کہ خلافت ثانیہ کا عہد مبارک آئندہ مارچ یعنی ۱۹۳۹ء میں پچیس سال کا ہو گا۔انشاء اللہ تعالی۔دوسری یہ کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی کی عمر کے پچاس سال بھی آئندہ سال پورے ہوں گے۔کیونکہ ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء آپ کی پیدائش کا دن ہے اور پچاس سال بھی جو بلی کا موقع ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ایک تیسری بات بھی ہے۔۔۔۔۔۔کہ آئندہ سال خود سلسلہ کے قیام پر بھی پچاس سال پورے ہو جائیں گے۔ہمارے ذہن میں تو پچیس سالہ جو بلی ہی تھی لیکن یہ محسن اتفاق ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے اخلاص کی قبولیت اور اس کے متعلق خوشنودی کا اظہار ہے کہ ہمارے لئے ایک کی بجائے تین جو بلیاں آنے والی ہیں۔" (الفضل یکم مئی ۱۹۳۸ء)