سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 261 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 261

۲۶۱ تو آئندہ ان کے بچاؤ کی بہت کچھ صورت پیدا ہو سکتی ہے۔(الفضل ۳۔جون ۱۹۴۶ء) مگر مسلمانوں کی غفلت کا یہ نتیجہ ہے کہ ان کی طرف سے ہمیشہ سیاسی شور مچایا جاتا رہا کہ پاکستان پاکستان پاکستان۔مگر یہ کبھی خیال نہیں کیا گیا کہ مسلمانوں کے اندر جرات اور بہادری پیدا کی جائے ان کی اخلاقی حالت کی درستی کی کوشش کی جائے ان کی اقتصادی حالت کی درستی کی کوشش کی جائے اور ایسے حالات پیدا کئے جائیں کہ ان کی غلامی کی روح بالکل کچلی جائے۔ایک ہندو انگریز کا جس قسم کا غلام تھا آج اس سے بہت کم غلام ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ انگریز کی غلامی سے بالکل آزاد ہو گیا ہے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ انگریز کی غلامی سے بہت حد تک نکل چکا ہے۔لیکن ایک مسلمان ابھی انگریز کا ویسا ہی غلام ہے جیسے پہلے تھا بلکہ شاید اس میں غلامی کی روح اب کچھ زیادہ ہی ہو گئی ہے۔ان امور کی اصلاح ضروری تھی مگر ان کی طرف توجہ نہیں کی گئی حالانکہ ان کے بغیر کبھی کوئی قوم کامیاب نہیں ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے۔جب کسی قوم کی اخلاقی حالت گر جائے تو وہ لالچ اور فریب اور دھمکیوں سے بہت جلد متاثر ہو جاتی ہے اور جب تک مسلمانوں کے اندر یہ نقص موجود رہے گا کہ وہ دھمکیوں سے مرعوب ہو جائیں گے وہ لالچ اور حرص کا مقابلہ کرنے کی طاقت اپنے اندر نہیں پائیں گے اس وقت تک ان کی ترقی کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی۔" (الفضل ۳ جون ۱۹۴۶ء) تعلق باللہ اور اخلاق فاضلہ سے مزین ہونے کیلئے حضور مسلسل توجہ دلاتے رہے۔مسلم کاز کے موضوع پر حضور نے مستقل اہمیت کی کتب تصنیف فرمائیں۔آپ کا کوئی خطبہ کوئی تقریر کوئی تحریر ایسی نہ تھی جس میں بنیادی حیثیت اخلاق فاضلہ کے حصول کی تلقین کو حاصل نہ ہو۔آپ اقتصادیات کے مشکل مسائل حل فرما رہے ہوں ، زراعت کے متعلق فنی معلومات پیش فرمار ہے ہوں، آپ معاشرتی خرابیوں کا ذکر فرما رہے ہوں، آپ تصوف و الہیات کے دقیق مضامین پر روشنی ڈال رہے ہوں ، ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت یا ہندوستان کے سیاسی مسائل حل فرما ر ہے ہوں، غیر مسلم معترضین کے اسلام پر اعتراضات کا جواب دے رہے ہوں ، قیام و استحکام پاکستان پر اپنے پر مغزید برانہ بیانات ارشاد فرمارہے ہوں اخلاق فاضلہ کے حصول کی تلقین اور اخلاقی بنیادوں پر مسائل کے حل کو نظر انداز نہ فرماتے گویا آپ کی تصانیف و تقاریر ، قرآنی حسن بیان احادیث کی