سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 260
نہ بنا ئیں گے ، مصیبت زدوں کی امداد نہ کریں گے تب تک ترقی نہ ہو گی۔" (الفضل ۱۹ جولائی ۱۹۲۹ء) چین سے مسلمانوں کے انخلاء کے انتہائی درد انگیز واقعہ کو بطور مثال عبرت پیش کرتے ہوئے قومی اتحاد و یکجہتی کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔ہیں :۔میں ہر احمدی کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائے کہ تمہاری پھوٹ تمہاری تباہی کا موجب ہو گی۔اس وقت تمہیں اپنی ذاتوں اور اپنے خیالوں اور اپنی پارٹیوں کو بھول جانا چاہئے اور ہر ایک مسلمان کہلانے والے کو اسلام کی حفاظت کے لئے متحد کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اختلاف کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔ہر ایک سے یہ خواہش مت کرو کہ وہ سو فیصدی تمہارے ساتھ مل جائے بلکہ اس سے یہ پوچھو کہ اس جدوجہد میں تم کتنی مدد کر سکتے ہو۔جتنی مددوہ کرنے کیلئے تیار ہو اس کو خوشی سے قبول کر لو اور اس وجہ سے کہ وہ سو فیصدی تمہارے ساتھ نہیں اس کو دھتکار و نہیں اور اسلام کی صفوں میں رخنہ پیدا مت کرو۔ہر احمد ہی کا فرض ہے کہ وہ اس آواز کو اٹھائے اور رات اور دن اس کام میں لگ جائے۔حتی کہ سیاسی پارٹیاں آپس میں اتحاد کرنے پر مجبور ہو جائیں۔میں یقین کرتا ہوں اگر اب بھی مسلمان اختلاف پر زور دینے کی بجائے اتحاد کے پہلوؤں پر جمع ہو جائیں تو اسلام کا مستقبل تاریک نہیں رہے گا ورنہ افق سماء پر مجھے پین کا لفظ لکھا ہوا نظر آتا ہے۔" (الفضل ۲۸۔اگست ۱۹۴۶ء) اسی سلسلہ میں آپ قومی کیریکٹرو کردار کی مضبوطی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمان اپنا قومی کیریکٹر مضبوط کرتے ، ضرورت تھی اس بات کی کہ مسلمان غیر ممالک میں پرو پیگنڈہ کی اہمیت کو سمجھتے ، ضرورت تھی اس بات کی کہ مسلمان سیاسی طور پر غیر قوموں سے سمجھوتہ کرنے کی کو شش کرتے اور ضرورت تھی اس بات کی کہ مسلمان اس امر کو سمجھتے کہ تھوڑا بہت اختلاف جو قوم میں شقاق اور افتراق پیدا کرنے کا موجب نہ ہو اس کا برداشت کرنا قوم کے لئے مضر نہیں ہو تا بلکہ ترقی کیلئے مفید ہوتا ہے۔اب بھی مسلمان اگر ان امور کی اہمیت کو محسوس کرلیں