سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 243 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 243

۲۴۳ نے اس کے خلاف ریزولیوشن پاس کئے۔احمدیت اور سیاست علاقہ کے سکھ اور ہندوؤں نے اس قانون شکنی اور اشتعال انگیزی کے بعد عدالت میں مقدمہ بھی دائر کر دیا۔الفضل یکم نومبر ۱۹۲۹ء سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور قادیان میں مدیح تعمیر ہو ا جو انسانی حقوق کے قیام میں حضور کی جد وجہد کا ایک نشان تھا۔سوانح فضل عمر حصہ دوم میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے حضرت مصلح موعود کی ملی و قومی مفاد کے امور میں صحیح اور بروقت راہنمائی کے متعلق نہایت پر مغز مقالہ تحریر فرمایا ہے۔جس میں وہ دس اصول بیان فرمائے ہیں جو حضور کی مخصوص کامیاب سیاست یا ملی خدمات میں کار فرما نظر آتے ہیں۔جن کی روشنی میں حضور کے کار ہائے نمایاں کی عظمت و انفرادیت نمایاں ہوتی ہے۔حضرت فضل عمر اپنے اس نوعیت کے بعض نهایت مفید اور دور رس نتائج کے حامل واقعات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔”لوگ کہتے ہیں احمدیوں کو سیاست سے کیا تعلق جو لوگ ریلوے سٹیشن سے دور ایک گاؤں کے رہنے والے ہوں اور سیاسی معاملوں میں استاد خل بھی نہ دیتے ہوں ،کسی سیاسی جماعت سے تعلق بھی نہ رکھتے ہوں بھلا ان کو سیاسی امور کی کیا خبر ہو سکتی ہے۔یہ سچ بات ہے ہم سیاست سے تعلق نہیں رکھتے مگر باوجود ان باتوں کے بات وہی صحیح ہوتی ہے جو ہم کہتے ہیں۔خلافت کی تحریک کے دنوں میں جن مطالبات کو میں نے کہا کہ انہیں پیش کیا جائے ان کو اس وقت ٹال دیا گیا لیکن بعد میں ترکوں نے وہی مطالبات کئے اور سرمو فرق نہ کیا۔ان کی کمیٹیاں بیٹھیں اور ان کے سیاسی مدبروں کی سوچ بچار کے بعد آخر ان ہی مطالبات کے پیش کرنے پر آئے جن کے پیش کرنے کا ایک عرصہ پہلے میں نے مشورہ دیا تھا۔پھر ہجرت کا واقعہ پیش آیا اس میں بھی میں نے صلاح دی اور اس کے بھی نفع و نقصان سے آگاہ کیا مگر اس پر بھی اس وقت توجہ نہ کی گئی اور آخر میرے بتائے ہوئے نقصانات ان کو برداشت کرنے پڑے۔پھر ہندو مسلم اتحاد کا شور پڑا اس میں بھی میں نے جو تجاویز بتا ئیں اس وقت تو ان پر ہنس دیا گیا لیکن آخر یہ لوگ خود ہی چلا دیئے کہ اگر ہندوؤں وغیرہ سے اتحاد ہو سکتا ہے تو ان شرائط اور ان تجاویز پر اور وہ شرائط اور دہ تجاویز کیا تھیں وہی تھیں جو میں نے پہلے ہی بتا دی تھیں۔پھر نان کو آپریشن (Non-Cooperation) کی آواز اٹھی میں نے اس کے متعلق بھی کچھ مشورہ دیا مگر