سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 199
۱۹۹ ہمارے حقوق ہمیں نہ دیئے تو انگریزوں سے مددلی جا سکتی ہے اور وہ دلا دیں گے۔لیکن جب انگریزوں کو نکال دیا جائے گا تو پھر مسلمانوں کا پرسان حال کون ہو گا وہ ہندوؤں کے رحم و کرم پر ہونگے اگر کچھ چاہیں تو دے دیں وگرنہ ان کی مرضی۔پس میں کہوں گا جو مسلمان کانگریس کی رو میں سے چلے جا رہے ہیں وہ اسلامی نقطہ نگاہ سے خود کشی کر رہے ہیں۔اگر کہا جائے کہ ہم فرقہ وارانہ جذبات سے نہیں بلکہ نیشنیلٹی کے خیال سے کانگریس کے ساتھ ملے ہیں اور یہ ایک نیشنل سوال ہے تو میں کہوں گا اگر بعد میں جوتے کھا کر ہندو بنتا ہے تو پہلے ہی اپنی مرضی سے کیوں نہ بن جاؤ۔" (الفضل ۲۵۔فروری ۱۹۳۰ء) ہندوستان میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے مقابلہ کانگریس کی ایک خوفناک سازش کا توڑ میں اقلیت میں ہونے کی وجہ سے قریباً ہر میدان میں نقصان اٹھانا پڑتا تھا مگروہ اپنے آپ کو ہندوؤں کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور پاتے تھے اور بقول مورخ پاکستان جناب رئیس احمد جعفری "انہیں کانگریس سے خدشات تھے اکثریت سے خطرات تھے ، ہندوؤں سے شکایات تھیں بایں ہمہ انہوں نے بار بار کانگریس کو دعوت مصالحت دی بكرات و مرات دست تعاون دراز کیا، بارہا انہوں نے کوشش کی کہ اکثریت ان پر اعتبار کرے جب کبھی متحدہ طور پر قدم اٹھانے یا مطالبہ پیش کرنے کا مرحلہ در پیش ہوا وہ کبھی پیچھے نہ ہے مسلمانوں نے کانگریس سے ملنا چاہا سو بار ملنا چاہا۔مسلمانوں کی اکثریت کی طرف سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا اور بڑھائے رکھا۔مسلمانوں نے ہندوؤں سے راہ و رسم پیدا کرنے کی کوشش کی اور کرتے رہے۔(حیات محمد علی جناح صفحه ۶۸) ایسی ہی صلح و دوستی کی کوششوں میں سے ایک وہ کوشش بھی تھی جو بعد میں میثاق لکھنو کے نام سے مشہور ہوئی۔1917ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کی ہائی کمان نے ایک ایسا سمجھوتہ کیا جس کی رو سے مسلمان ہندو اکثریت والے صوبوں میں کچھ زائد نشستیں حاصل کرنے کے عوض مسلم اکثریت کے صوبوں پنجاب اور بنگال میں اپنی اکثریت کو ختم کرنے پر تیار ہو گئے۔اس وقت کی مسلم قیادت نے نیک نیتی کے ساتھ مسلمانوں کے مفاد میں ہی یہ سمجھوتہ کیا ہو گا مگر حضرت مصلح موعود کی مومنانہ فراست اس معاہدہ میں چھپے ہوئے اس انتہائی خطرناک امر کو بھانپ گئی کہ یہ تو عملاً اپنے ہاتھ پاؤں باندھ کر ہندو کی مستقل غلامی کا طوق اپنی گردن میں ڈالنے اور آزادی کی تمام کوششوں