سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 197 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 197

194 مسلمانوں کے مطالبات منظور کرلیں کیونکہ اسی میں ملک کی بہتری ہے اگر ہندو مسلمانوں کو ان کے واجبی حقوق نہ دیں گے تو وہ کبھی بھی حقیقی ملکی ترقی کے متمنی نہیں سمجھے جا سکتے۔مسلمان نیشنل سپرٹ کا اس وقت تک ثبوت نہیں دے سکتے جب تک کہ وہ ملک میں اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھیں اور یہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ انہیں ان کے حقوق جن کا مختصر خاکہ یہ ہے دے دیئے جائیں۔سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے ایک مستقل صوبہ بنا دیا جائے۔جغرافیائی، تاریخی ، زبانی اور تمدنی حالات اس کی علیحدگی کے متقاضی ہیں۔صوبہ سرحد میں اصلاحات کا نفاذ کیا جائے۔۔بنگال، پنجاب، سندھ، صوبہ سرحد میں مسلمانوں کو ان کی تعداد کے تناسب سے پورے پورے حقوق دیے جائیں۔۴۔صوبہ جات کو کامل خود اختیاری دی جائے تاکہ کم سے کم ان صوبوں میں جہاں مسلمانوں کی کثرت ہے ان کے حقوق محفوظ رہ سکیں۔۵ موجوده جداگانه انتخاب کا طریق برقرار رکھا جائے تاکہ مسلمانوں میں اپنے محفوظ ہونے کا احساس پیدا ہو سکے۔۶۔مسلمانوں کو ملازمتوں وغیرہ میں واجی حقوق دیئے جائیں اور نا قابلیت کے موہوم گذر کے ذریعہ ان کے واجبی حقوق کو دبانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے۔یہ ہیں مختصراً مسلمانوں کے مطالبات اور وہ امید کرتے ہیں کہ ملکی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے ہندو بھائی ان کو منظور کرنے میں تامل نہیں کریں گے۔(الفضل ۱۰۔جنوری ۱۹۳۰ء) ہندوؤں نے اپنی بالادستی قائم رکھنے اور مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کیلئے یہ تحریک چلائی کہ ہم اس وقت مل کر انگریزوں سے آزادی حاصل کر لیں بعد میں حقوق کا تصفیہ کر لیا جائے گا۔اس پر اپیگنڈہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔"میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس کی (اس) پالیسی سے زیادہ دھوکا اور فریب کی پالیسی اور کوئی نہیں ہو سکتی اور مسلمانوں سے زیادہ کوئی احمق نہ ہو گا اگر انہوں نے اسے تسلیم کر لیا۔یہ کہنا کہ حقوق کا تصفیہ بعد میں ہو جائے گا نہایت مضحکہ خیز بات