سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 191
191 بچوں کو ہلاک کریں؟ چھوٹے بچوں پر تو جنگلی جانور بھی رحم کھاتے ہیں۔بہادری سے لڑیں اس سے صلح ہو جانے کی امید قائم رہتی ہے نہ کہ بُزدلی سے کام لیں کہ یہ انسانیت الفضل ۲۔مئی ۱۹۳۱ء) کے خلاف ہے۔" ملک میں امن و امان کے قیام اور صلح و آشتی کی فضا پیدا فسادات لاہور اور احمد یہ خدمات کرنے کی مخلصانہ کوششوں میں تو حضور پیش پیش تھے مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کہ مسلم مفاد عامہ کو نظر انداز کر کے ہند و دوستی کے پودے کو پانی دیا جاوے یہی وجہ ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی مسلمانوں کا مفاد خطرے میں نظر آیا حضور نے ہر ممکن طریق پر اس کے ازالہ کی جدوجہد فرمائی۔مسلم مفاد و دلچسپی کے بعض ایسے ہی امور بطور مثال پیش خدمت ہیں۔۱۹۲۷ء میں لاہور میں فسادات کے نتیجہ میں مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔اس مصیبت کے وقت حضور نے مصیبت زدگان کی فوری امداد کا انتظام فرمایا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔وو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس سال ایسے سامان پیدا ہو گئے کہ ہماری جماعت کی جو عزت پہلے تھی اس سے کئی گنا زیادہ ہو گئی۔وہ لوگ جو پہلے جماعت کے سخت دشمن تھے یہ محسوس کرنے لگ گئے ہیں کہ اگر اسلام کی حفاظت کرنے والی کوئی جماعت ہے تو وہ احمد کی جماعت ہی ہے۔۔۔۔۔۔ان سامانوں میں سے پہلا سامان تو لاہور کے فسادات تھے جن کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ کچھ لوگوں کے اکسانے سے بعض سکھوں نے کچھ مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے بے کسی کی حالت میں قتل کر دیا۔یہ ایسا واقعہ تھا کہ دشمنوں کو بھی مسلمانوں سے ہمدردی پیدا ہونی چاہئے تھی مگر جنہوں نے مارا تھا ان کی قوم نے ان کی امداد شروع کر دی۔ایسے موقع پر میں نے اپنا فرض سمجھا کہ مسلمانوں سے ہمدردی کی جائے اور جو لوگ مارے گئے ہیں یا گر فتار ہو گئے ہیں ان کے رشتہ داروں کی امداد کی جائے چنانچہ اس غرض سے ناظر اعلیٰ اور دو تین اور اصحاب کو لاہور بھیجا گیا اور جس حد تک ممکن ہو سکا لوگوں کی امداد کی گئی اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی ہمدردی کی رو پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خود ان لوگوں نے بھی جو ہمدردی کے محتاج تھے اس بات کو محسوس کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ احمدی مصیبت