سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 190
19۔بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں یوم پیشوایان مذاہب کی تحریک پہلے سے کر چکا ہوں۔یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اقوام میں محبت پیدا کرنے کا یہی ایک ذریعہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بزرگوں کی عزت کریں۔تمدنی بواعث میں سے جن کی وجہ سے ہندو مسلمانوں میں لڑائی ہوتی ہے ایک بڑا باعث چھوت چھات ہے۔سکھ مذہباً چھوت چھات کے قائل نہیں، ہندوؤں میں تعلیم یافتہ لوگ اس کے قائل نہیں البتہ عام طبقہ کی بناء پر چھوت چھات جاری رہے گی تو مسلمان اگر اپنی اقتصادی نازک حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء ہندو صاحبان سے اس طرح نہ لیں جس طرح وہ (ہندو) مسلمانوں سے پر ہیز کرتے ہیں تو ہندو صاحبان کو بُرا نہ منانا چاہئے۔لیکن اگر یہ مسئلہ صرف تمدنی اور حفظان صحت کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اختیار کیا گیا ہے تو پھر ہند و صاحبان ملک کے امن کی غرض سے اسے چھوڑ دیں۔مسلمان اقتصادی طور پر بہت گرے ہوئے ہیں۔۹۹ فیصدی مسلمان پنجاب میں مقروض ہیں اور ہندوؤں کی چھوت چھات کی وجہ سے ان کی فلاکت روز بروز بڑھ رہی ہے۔سیاسی اختلافات کے سلسلے میں یہ ایک بات میں اپنے مسلمان بھائیوں سے اور ایک بات اپنے ہندو بھائیوں سے کہوں گا۔ہندو صاحبان سے یہ کہ آپ لوگ اس ملک میں اکثریت ہیں اور اگر آپ کچھ رعایت مسلمانوں کو دے دیں گے تو اس سے آپ کی اکثریت میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔اور مسلمان صاحبان سے یہ کہوں گا کہ آپ لوگ یہ امر ثابت کر دیں اور اس بارے میں ہند و صاحبان کے شکوک دور کر دیں کہ باہر سے حملہ کی صورت میں۔۔۔۔آپ لوگ ہندوؤں کے دوش بدوش اپنے ملک کی آزادی کی خاطر لڑیں گے۔" اسی سلسلے میں ایک نہایت پر حکمت نکتہ معرفت بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔میں تفصیلی طور پر غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندو مسلمانوں کی صلح ہو سکتی ہے۔لیکن اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ صلح نہیں ہو سکتی اور ہمیں اگر آپس میں لڑنا ہی پڑے تو بھی انسانیت کو بالائے طاق نہیں رکھنا چاہئے۔لڑائی کے وقت اس قسم کے واقعات نہیں ہونے چاہئیں کہ ہم انسانیت کو ہی بھول جائیں۔عورتوں اور چھوٹے