سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 182 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 182

قیام پاکستان یا حصول آزادی کے سلسلہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں مسلم کی تعریف کے باہم اتحاد و اعتماد کا فقدان تھا۔ہر مسلم فرقہ دوسرے مسلم فرقہ کو کافریان مسلم قرار دے کر افتراق و انشقاق کو وسعت دیتا چلا جارہا تھا۔یہی وجہ ہے کہ کانگریس میں ایسے مسلمان موجود تھے جو ہندو مفاد کو آگے بڑھانے میں ان کے مد د معاون تھے۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ باہم ایک دوسرے کو کافراور غیر مسلم قرار دینے والوں نے اس امر پر سوچنے کی کبھی زحمت ہی نہ کی کہ "مسلم" کی تعریف کیا ہے۔اس امر کو نظر انداز کرنے سے باہم اختلاف اور نفرت بڑھتی چلی جاتی تھی۔ظاہر ہے ایسی حالت میں کوئی لیڈر کتنا بھی مخلص اور پر عزم ہو وہ کیا کر سکتا ہے۔قائد اعظم جن کا عزم و خلوص ہر شک وشبہ سے بالا ہے ان امور کو دیکھتے ہوئے جس طرح بد دل ہوئے اس کے متعلق فرماتے ہیں۔میں مایوس ہو چکا تھا۔مسلمان بے سہارا اور ڈانواڈول ہو رہے تھے۔مجھے اب محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔نہ ہندو ذہنیت میں خوشگوار تبدیلی پیدا کر سکتا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں آخر میں نے لندن میں ہی بود و باش کا فیصلہ کر لیا۔" ( حیات محمد علی جناح صفحہ ۲۰۰) فدائی ملت حضرت مصلح موعود بھی اس صورت حال کو دیکھ رہے تھے اور آپ کی یہ حالت تھی کہ :۔” ہمارے دل مسلمانوں کی تکالیف کو دیکھ کر زخمی ہیں اور ان کی مشکلات کا معائنہ الساس الاتحاد صفحه 1 کر کے خون کے آنسو بہاتے ہیں۔" یہ امر کسی بھی قاری کی نظر سے مخفی نہیں ہے کہ جماعت احمد یہ بالعموم اور امام جماعت احمد یہ بالخصوص ضد و تعصب پر مبنی مسلسل خوفناک مخالفت کے تند و تیز طوفان کا سامنا کر رہے تھے مگر اس کے باوجود آپ کی حالت یہ تھی کہ :۔تم کو مجھ سے ہے عداوت تو مجھے تم سے ہے پیار میری یہ کیسی محبت ہے کہ جاتی ہی نہیں ( مصلح موعود) مسلمان قوم کو یکجا کرنے اور انہیں اتحاد و اتفاق کی برکات سے مالا مال کرنے کیلئے حضور کے مسلسل جہاد میں سے یہ کارنامہ بہت ہی نمایاں ہے کہ آپ نے مسلمان کی ایک ایسی تعریف پیش