سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 176 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 176

144 ”میرے نزدیک اس کا بہترین علاج یہ ہو سکتا ہے کہ تمام ممبروں کو جو قوم کے نمائندہ ہوں یا قوم کی نمائندگی کو تسلیم کرلیں ایک نظام میں منسلک کر دیا جائے اور ان کا ایک سیکرٹری بنا دیا جائے اس کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کا اجلاس کیا جائے اور اس میں ایک دفعہ اصلاحات کے سوال پر قومی اور ملکی دونوں نقطہ نگاہ سے غور کر لیا جائے اور یہ ایک مکمل سکیم تجویز کر کے جس میں حکومت کی تمام جزئیات پر بحث ہوا نہیں دے دی جائے۔۔۔اور ساتھ ہی مخفی طور پر یہ ہدایات دے دی جائیں کہ اس سکیم میں اس قدر تغیر آپ لوگ حسب ضرورت کرنے کے مجاز ہونگے مگر اس سے زائد تغیر پر اگر آپ لوگ مجبور ہوں تو آل مسلم پارٹیز کانفرنس سے مشورہ کئے بغیر کارروائی نہ کریں۔۔۔ہاں یہ امر مد نظر رکھا جائے کہ جو لوگ نمائندہ ہو کر گئے ہوں جہاں تک ہو سکے ان کی تجاویز کو اہمیت دی جائے اور بلا کافی وجہ کے ان کے مشورہ کو رد نہ کیا جائے جانتے۔" کیونکہ موقع پر موجود ہونے والا آدمی بعض ایسی باتوں کو جانتا ہے جنہیں دوسرے نہیں (الفضل ۲۸ جون ۱۹۳۰ء) آل مسلم پارٹیز کانفرنس کے روح رواں ہمارے امام تھے۔جولائی ۱۹۳۰ء میں حضور اس کانفرنس میں شرکت کیلئے تشریف لے گئے جسے مسلمانان ہند کی سیاسی جدوجہد میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔حضور کی شمولیت مسلم نمائندگان کی شدید خواہش کے پیش نظر تھی۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے حضور کی خدمت میں ان نمائندگان کی دعوت پہنچاتے ہوئے ۱۵۔جون ۱۹۳۰ء کے اپنے ایک خط میں تحریر کیا۔” سائمن کمیشن کی رپورٹ کا خلاصہ حضور نے ملاحظہ فرمالیا ہو گا اکثر پہلوؤں سے مایوس کن ہے۔سردار حیات خان اور اکثر احباب شملہ کی خواہش تھی کہ حضور ۵۴۴ جولائی کی کانفرنس میں ضرور شرکت فرما ئیں تا اس موقع پر مسلمانوں کی صحیح نمائندگی ہو سکے۔" ہفت روزہ خاور لاہور نے اس شملہ کا نفرنس کی اہمیت بتانے اور اس میں مسلمانان ہند کی مکمل نمائندگی کا ذکر کرنے کے بعد لکھا کہ :۔" حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایک روحانی پیشوا سمجھے جاسکتے ہیں مگر راقم الحروف نے شملہ کانفرنس کے موقع پر آپ کو سیاسیات حاضرہ سے پورا واقف