سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 159
۱۵۹ نہیں ہوگی کہ وہ ہندوستان میں رہ جائیں اس قسم کے حالات میں ہمیں مجبور اسیاسیات کی طرف توجہ کرنی پڑتی ہے۔اس وقت مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ کسی بات کا صحیح نقشہ ذہن میں نہیں رکھتے اور ان کی یہ عادت ہو چکی ہے کہ اول تو وہ سوچتے ہی نہیں اور اگر سوچیں تو پھر بالکل جذباتی سکیم سوچتے ہیں جس کا چلانا ان کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔اس وقت مسلمان نہایت پراگندگی اور تشتت کی حالت میں ہیں اور ان کی کنی قسمیں ہیں۔یورپ کے مسلمان ایشیائی مسلمانوں سے بالکل الگ ہیں۔گو ان کی تعداد ایشیائی ممالک کے مقابلہ میں بالکل کم ہے لیکن اگر وہ بھی ایشیائی مسلمانوں سے متحد ہوں تو اس اتحاد سے یورپین ممالک اور ایشیائی ممالک کے مسلمانوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔میرا خیال ہے کہ یورپین ممالک میں مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ کے قریب ہے۔پولینڈ میں کئی لاکھ مسلمان ہیں، رومانیہ میں کئی لاکھ مسلمان ہیں ، اسی طرح یورپین ترکی اور یونان میں کئی لاکھ مسلمان ہیں ممکن ہے ایک کروڑ سے بھی زیادہ ہوں لیکن یہ سمارے کے سارے مسلمان بے بسی کی حالت میں ہیں اور اسلامی تعلیم سے بالکل ناواقف ہیں۔وہ مغربی تعلیم کو ہی اپنا لائحہ عمل سمجھتے ہیں اور اسلامی تعلیم سے اس قدر دور جا چکے ہیں کہ اسلامی تعلیم ان میں رسم و عادت بن کر رہ گئی ہے لیکن اس کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ وہ مرتد نہیں ہوئے وہ اپنی قوم مسلمان سمجھتے ہیں اور کوئی شخص اپنی قومیت تبدیل کرنا پسند نہیں کرتا اس لئے وہ بھی اسلام کو نہیں چھوڑتے اور یہ چیز ان کی حفاظت کر رہی ہے۔وہ عملاً عیسائیت اور یورپ کے اصولوں پر کار بند ہیں لیکن جب ان کا سے پوچھا جائے کہ آپ کون ہیں تو فخریہ طور پر کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں۔ان کے نزدیک اسلام ایک قوم کا نام ہے مذہب کا نام نہیں کیونکہ وہ مذہب کے متعلق تو جانتے ہی کچھ نہیں۔وہ اسلام کے نام پر اکٹھے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ہمار ا سیاسی طبقہ اسلام کے نام سے ہی قائم رہ سکتا ہے۔اس کے بعد جنوبی افریقہ ہے اس میں بڑی بھاری تعداد میں مسلمان ہیں۔لیکن وہ بہت گری ہوئی حالت میں ہیں اور ان سے یہ امید نہیں ہو سکتی کہ وہ کسی اسلامی ملک کی تائید میں شور مچائیں گے۔شمالی افریقہ کے بعد مشرق قریب ہے جو ہمارے لحاظ سے مغرب ہے اس میں مصر کی حکومت ہے، شام کی حکومت ہے فلسطین، عرب اور عراق کی حکومتیں ہیں ایران، افغانستان کی حکومتیں ہیں ان سب