سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 139
۱۳۹ پر بھائی کو بھائی کا باپ کو بیٹے کا اور ماں کو اپنی لڑکی کا بھی حال معلوم نہیں۔صرف وہ چھوٹی سی قوم وہ تھوڑے سے افراد جو دشمن کے تیروں کا ہمیشہ سے نشانہ بنتے چلے آئے ہیں اور جن کے متعلق کہنے والے کہتے تھے کہ دشمن کے حملہ کا ایک ریلا آنے دو پھر دیکھو گے کہ ان کا کیا حشر ہوتا ہے ؟ جو نہی حملہ ہوا یہ لوگ متفرق ہو جائیں گے منتشر اور پراگندہ ہو جائیں گے وہی ہیں جو آج ایک مرکز پر جمع ہیں وہ کثیر التعداد آدمی جو وہاں سے نکلے تھے وہ پھیل گئے ، وہ بکھر گئے وہ پراگندہ ہو گئے مگر وہ چھوٹی سی جماعت جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ایک معمولی سا ریلا بھی آیا تو یہ ہمیشہ کیلئے منتشر ہو جائے گی وہ مرغابیوں کی طرح اٹھی تھوڑی دیر کیلئے ادھر ادھراڑی مگر پھر جمع ہوئی اور ربوہ میں آکر بیٹھ گئی۔چنانچہ جو نظارہ آج تم دیکھ رہے ہو یہ خواہ اتنا شاندار نہیں جتنا قادیان میں ہوا کر تا تھا کیونکہ ابھی ہماری پریشانی کا زمانہ ختم نہیں ہوا لیکن اور کونسی قوم ہے جس کی حالت تمہارے جیسی ہے اور کونسی جماعت ہے جو آج اس طرح پھر جمع ہو کر ایک مقام پر بیٹھ گئی ہے یقینا اور کوئی قوم ایسی نہیں۔پس تمہارے اس فعل نے بتا دیا کہ تمہارے اندر ایک حد تک قومی روح ضرور سرایت کر چکی ہے۔تم اڑے بھی ، تم پراگندہ بھی ہوئے ، تم منتشر بھی ہوئے مگر پھر جو تمہاری جبلت ہے جو تمہاری طینت ہے، جو چیز تمہاری فطرت بن چکی ہے کہ تم ایک قوم بن کر رہتے ہو اور ایک آواز پر اکٹھے ہو جاتے ہو یہ فطرت تمہاری ظاہر ہو گئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ کوئی طاقت تمہیں ہمیشہ کیلئے پراگندہ نہیں کر سکتی۔" حضور نے اپنے اس ولولہ انگیز خطاب میں رئیس المنافقین عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کا وہ مشهور واقعه بیان فرمایا کہ اس کے یہ کہنے پر کہ مدینہ واپس جا کر مدینہ کا سب سے معزز شخص (یعنی وہ خود) مدینہ کے سب سے ذلیل شخص (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کو مدینہ سے نکال دے گا یہ سن کر اس کے اپنے بیٹے نے دینی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے تو حضور کی خدمت میں جا کر عرض کیا کہ اگر اس گستاخی کے نتیجہ میں آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دینا چاہتے ہیں تو یہ کام کوئی اور نہیں بلکہ میں اپنے ہاتھ سے انجام دوں گا۔حضور کے یہ بتانے پر کہ میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے حضرت عبداللہ واپس چلے گئے مگر ابھی اس تلخ بات کی تلخی بہت شدت سے محسوس کر رہے تھے۔عبد اللہ بن ابی بن سلوں کے بیٹے کا اصل نام حباب تھا جب عبد اللہ بن ابی بن سلوں کا انتقال ہوا تو رسول کریم میں نے حباب کا نام بدی کہ عبداللہ رکھ دیا۔سیرت حلبیه اراد جلد ۲ نصف قرص ۳۰۸ مطبوعہ تشکیل پرئیس کراتی ۱۹۹۹ء) "