سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 138
۱۳۸ اپنی زندگیاں وقف کرتے چلے جائیں لیکن اگر ہماری کسی غلطی اور گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ یہ مقام ہمیں نصیب نہ کرے اور ہماری ساری اولادیں یا ہماری اولادوں کا کچھ حصہ دین کی خدمت کرنے کیلئے تیار نہ ہو۔اللہ تعالیٰ پر توکل اس کے اندر نہ پایا جاتا ہو۔خدا تعالیٰ کی طرف انابت کا مادہ اس کے اندر موجود نہ ہو تو پھر ہمیں اپنے آپ کو اس امر کے لئے تیار رکھنا چاہئے کہ جس طرح ایک مردہ جسم کو کاٹ کر الگ پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح ہم اس کو بھی کاٹ کر الگ کر دیں اور اس جگہ کو دین کی خدمت کرنے والوں کے لئے ان سے خالی کروالیں۔" (الفضل ۶۔اکتوبر ۱۹۴۹ء) ربوہ کی تعمیر پر خدا تعالیٰ کے احسانات کا شکر ادا کرتے ہوئے اور جماعت کو اس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ربوہ میں منعقد ہونے والے دوسرے جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب میں حضور نے فرمایا :۔” ہماری موجودہ مثال ان کمزور پرندوں کی سی ہے جو دریا کے کسی خشک حصہ میں ستانے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں اور شکاری جو ان کی تاک میں لگا ہوا ہو تا ہے ان پر فائر کر دیتا ہے اور وہ پرندے وہاں سے اڑ کر ایک دوسری جگہ پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ہم بھی آرام سے اور اطمینان سے دنیا کی چالاکیوں اور ہوشیاریوں اور فریبوں سے بالکل غافل ہو کر کیونکہ مومن چونکہ خود چالاک اور فریبی نہیں ہوتا وہ دوسروں کی چالاکیوں اور فریبوں کا اندازہ نہیں لگا سکتا اپنے آرام گاہ میں اطمینان اور آرام سے بیٹھے تھے اور ارادے کر رہے تھے کہ ہم میں سے کوئی اڑ کر امریکہ جائے گا کوئی انگلستان جائے گا کوئی جاپان جائے گا اور دین اسلام کی اشاعت ان جگہوں میں کرے گا لیکن چالاک شکاری اس تاک میں تھا کہ وہ ان غافل اور سادہ لوح پرندوں پر فائر کرے چنانچہ اس نے فائر کیا اور چاہا کہ وہ ہمیں منتشر کر دے مگر ہماری جماعت جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے الہامات میں پرندے ہی قرار دیا گیا ہے اپنے اندر ایک اجتماعی روح رکھتی تھی۔" " مشرقی پنجاب سے بہت سی قومیں بہت سے گاؤں نکلے بہت سے شہر نکلے بہت سے علاقے نکلے لیکن انہوں نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ قومی روح اپنے اندر نہیں رکھتے تھے۔وہ پراگندہ ہو گئے وہ پھیل گئے وہ منتشر ہو گئے یہاں تک کہ بعض جگہ